رسائی کے لنکس

سرتاج عزیز اور سشما سوراج کی ملاقات نیپال میں متوقع

  • عشرت سلیم

فائل فوٹو

فائل فوٹو

پاکستان کے سابق سیکرٹری خارجہ شمشاد احمد خان نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ ایسی ملاقاتیں بہت رسمی ہوتی ہیں۔

نیپال کے شہر پوخارا میں رواں ہفتے جنوبی ایشیائی ممالک کی تنظیم ’سارک‘ کے وزارتی سطح کے اجلاس کے موقع پر پاکستان کے وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ اُمور سرتاج عزیز اور بھارت کی وزیر خارجہ سشما سوراج کی ملاقات کی توقع کی ظاہر جا رہی ہے۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے اس حوالے سے سامنے آنے والی خبروں کے بارے میں پیر کو ایک بیان میں کہا کہ سرتاج عزیز اجلاس کے موقع پر سارک ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں کریں گے اور وزیراعظم کی طرف سے ان ممالک کے سربراہان کے لیے اس برس پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے 19 ویں سارک سربراہ اجلاس کا دعوت نامہ پہنچائیں گے۔

تاہم سرتاج عزیز اور سشما سوراج کی ممکنہ ملاقات کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا ہے۔

پاکستان کے سابق سیکرٹری خارجہ شمشاد احمد خان نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ ایسی ملاقاتیں بہت رسمی ہوتی ہیں۔

’’سارک کے موقعے پر جتنی بھی دوطرفہ ملاقاتیں ہوتی ہیں مجھے ان کا اچھی طرح پتا ہے۔ اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر جتنی دوطرفہ ملاقاتیں ہوتی ہیں مجھے ان کی بھی حقیقت پتا ہے۔ یہ رسمی ملاقاتیں ہوتی ہیں۔‘‘

تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’’ملاقات کا موقع کسی بھی بہانے سے ہو، وہ خوش آئند ہوتا ہے، چاہے کسی بھی مقصد کے لیے ہو۔‘‘

پاکستان اور بھارت کے درمیان جنوری کے وسط میں خارجہ سیکرٹری سطح کے مذاکرات متوقع تھے مگر پٹھان کوٹ میں بھارتی فضائیہ کے ایک اڈے پر حملے کے بعد انہیں مؤخر کر دیا گیا۔

بھارت نے پٹھان کوٹ حملے کا الزام پاکستان میں موجود شدت پسند تنظیم جیش محمد پر عائد کیا تھا اور پاکستان اس سلسلے میں تحقیقات کر رہا ہے۔

سیکرٹری سطح کے مذاکرات میں توقع تھی کہ دونوں ممالک آنے والی ملاقاتوں کا ایجنڈا اور تاریخیں طے کریں گے جن میں کشمیر، سکیورٹی اور سیاچن سمیت تمام تصفیہ طلب معاملات کے حل کے لیے مذاکرات کیے جانے تھے۔

اگرچہ دونوں ممالک کا کہنا ہے کہ یہ مذاکرات منسوخ نہیں کیے گئے اور وہ ایک دوسرے سے رابطے میں ہیں مگر تاحال ان کی کوئی حتمی تاریخ سامنے نہیں آسکی۔

رواں ماہ کے اواخر میں پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم ایک جوہری کانفرس میں شرکت کے لیے واشنگٹن جائیں گے۔ ذرائع ابلاغ میں ان دونوں کی ممکنہ ملاقات کے حوالے سے بھی قیاس آرائیاں جاری ہے مگر سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں کی گئی۔

XS
SM
MD
LG