رسائی کے لنکس

طالبان کی قیادت پاکستان میں موجود ہے: سرتاج عزیز


انهوں نے مزید کہا کہ طالبان قیادت اور افغان حکومت کے نمائندوں کے درمیان پچهلے سال ہونے والی ملاقات سے پہلے بهی پاکستان کے طالبان قیادت کی نقل و حرکت اور طبی سہولیات تک رسائی پر پابندیاں عائد کی تهیں، تاکہ انہیں ملاقات کی میز تک لایا جاسکے

امان اظہر

وزیر اعظم پاکستان کے مشیر برائے امور خارجہ، سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ طالبان کی قیادت پاکستان میں موجود ہے، جس کے باعث پاکستان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کی ’’کسی حد تک صلاحیت رکهتا ہے‘‘۔

انهوں نے یہ بات واشنگٹن میں کونسل آن فارین رلیشنز (سی ایف آر) میں اپنی گفتگو کے دوران پوچهے گئے سوال کے جواب میں کہی۔ سرتاج عزیز کا کہنا تها کہ طالبان قیادت اپنے اہل خانہ کے ہمراہ پاکستان میں موجود ہے اور انہیں طبی سہولیات تک رسائی حاصل ہے۔

ان کا کہنا تها کہ یہ وە عوامل ہیں جن کے باعث پاکستان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے پر رضامند کر سکتا ہے۔ لیکن، انهوں نے یہ بهی باور کرایا کہ اس معاملے میں پاکستان کا کردار محض ثالث کا ہے، جب کہ، مذاکرات کی کامیابی کا انحصار افغان حکومت اور طالبان پر ہے۔

انهوں نے مزید کہا کہ طالبان قیادت اور افغان حکومت کے نمائندوں کے درمیان پچهلے سال ہونے والی ملاقات سے پہلے بهی پاکستان کے طالبان قیادت کی نقل و حرکت اور طبی سہولیات تک رسائی پر پابندیاں عائد کی تهیں تاکہ انہیں ملاقات کی میز تک لا سکیں۔

یاد رہے کہ وزیر اعظم پاکستان کے مشیر برائے امور خارجہ إن دِنوں واشنگٹن میں موجود ہیں، جہاں پاک امریکہ اسٹریٹجک ڈائیلاگ جاری ہے۔ اس اسٹریٹجک ڈائیلاگ میں چهے ورکنگ گروپوں کے درمیان توانائی، تعلیم، جوہری عدم پھیلاؤ سمیت دیگر امور پر بات چیت شامل ہے۔

پٹهان کوٹ حملے کے تناظر میں بات کرتے ہوئے سرتاج عزیز کا کهنا تها کہ پاکستان کو بهارت کی جانب سے جو معلومات دی گئی تھی اس پر کارروائی کی گئی ہے۔ بہرحال مزید کسی بهی کارروائی سے پہلے پاکستان اپنی تفتیشی ٹیم بهارت بهیجنے کا خواہاں ہے، تاکہ تفتیش کو آگے بڑهایا جا سکے۔

پاکستان کے جوہری ہتهیاروں پر واشنگٹن میں ہونے والی گفتگو پر سرتاج عزیز کا کہنا تها کہ پاکستان کے جوہری ہتهیار مکمل طور پر محفوظ ہیں اور پاکستان خطے میں بهارت کے بڑهتے ہوئے دفاعی عزائم کے ردعمل میں اپنی جوہری ہتهیاروں سمیت اپنی دفاعی تیاری جاری رکهے ہوئے ہے۔

XS
SM
MD
LG