رسائی کے لنکس

مودی کا دورہ لاہور پیرس ملاقات کا تسلسل ہے: سرتاج عزیز


مشیر خارجہ نے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت بتدریج آگے بڑھ رہی ہے۔ اسی لئے مربوط مذاکرات کا نام تبدیل کرکے جامع مذاکرات رکھا گیا ہے۔ دونوں ممالک کے سیکریٹری خارجہ جنوری کے وسط میں ملیں گے اور جامع مذکرات کے شیڈول کو حتمی شکل دیں گے

پاکستان کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے دورہ لاہور کو پیرس میں ہونے والی ملاقات کا تسلسل قرار دیا ہے، جس کے نتجے میں پاک بھارت مربوط مذاکرات جامع مذکرات میں تبدیل ہوئے۔

سرتاج عزیز نے ’وائس آف امریکہ‘ کے قمر عباس جعفری کو دئے گئے ایک انٹرویو میں بتایا کہ پیرس ملاقات میں دونوں قائدین نے طے کیا تھا کہ باہمی تعلقات بہتر ہونا چاہئیں اور مذاکرات کا عمل بحال ہونا چاہئیے۔ انہی طے شدہ معاملات کے مطابق پہلے بنکاک میں قومی سلامتی کے مشیران کی ملاقات ہوئی، جس کے بعد بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج پاکستان کے دورے پر آئیں۔ یہ سب کچھ دس دن کے اندر ہوا۔

مشیر خارجہ کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت بتدریج آگے بڑھ رہی ہے، اسی لئے مربوط مذاکرات کا نام تبدیل کرکے اسے جامع مذاکرات کا نام دیا گیا۔ اب دونوں ممالک کے سیکریٹری خارجہ جنوری کے وسط میں ملیں گے اور جامع مذکرات کے شیڈول کو حتمی شکل دیں گے۔

مشیر خارجہ نےپاک بھارت تعلقات میں کسی پیش رفت کی توقع کے بجائے اس امید کا اظہار کیا کہ کم از کم ان ملاقاتوں کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی آئے گی اور لوگوں کے درمیان رابطے بڑھیں گے، ماحول بہتر ہوگا تو پھر بنیادی مسائل پر بھی بات چیت ہوسکے گی۔

گزشتہ ڈیڑھ برس سے پاک بھارت کشیدگی کے تناظر میں مشیر خارجہ نے نریندر مودی کے دورہ لاہور کو نہایت اہم قرار دیا؛ اور کہا کہ بنیادی طور پر یہ دورہ خیر سگالی کا تھا۔ لیکن، یہ مثبت پیش رفت ہے جس میں طے ہوا ہے کہ مسائل، اعتماد کی بحالی اور عوام کے درمیان رابطے پر بھی بات چیت ہوگی۔

اس سوال پر کہ اتنی اہم ملاقات میں وہ موجود نہیں تھے، سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ نریندر مودی کی پاکستان آمد اچانک ہوئی اور پھر یہ خیر سگالی دورہ تھا اس میں تفیصلی بات چیت کا امکان نہیں تھا اس لئے وہ فوری طور پر اسلام آباد سے لاہور نہ پہنچ سکے۔ انھوں نے توجہ دلائی کہ خود بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج بھی اس ملاقات میں موجود نہیں تھیں۔

سرتاج عزیز نے اس خیال سے اتفاق کیا کہ پاک بھارت مذاکرات کی بحالی میں جو پیش رفت ہوئی ہے وہ سپر طاقت اور بین الاقوامی برادری کے دبائو کا نتیجہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ لائن آف کنڑول پر کشیدگی پوری دنیا کے لئے تشویش کا باعث تھی اور پھر پاکستان نے اقوام متحدہ میں بات چیت کی جو پیشکش کی تھی اور ڈوزئر پیش کئے تھے اس کا بھی اثر ہوا ہے۔ دنیا کی خواہش یہی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی بحالی کے لئے مذاکرات شروع ہوں۔

مشیر خارجہ سرتاج عزیز کے انٹرویو کی آڈیو سننے کے لئے درج ذیل لنک کلک کیجئے۔

XS
SM
MD
LG