رسائی کے لنکس

ملالہ کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کے درمیان امن ترقی کے لیے بہت اہم ہے اور یہ بہت مناسب ہوگا کہ اگر دونوں ملک اپنے اپنے ہاں تعلیم کے فروغ پر خصوصی توجہ دیں۔

پاکستان اور بھارت جنوب مشرقی ایشیا کی دو ہمسایہ ایٹمی قوتیں ہیں اور ان کے درمیان حالیہ دنوں میں ایک بار پھر کشیدگی دیکھی جا رہی ہے۔

لیکن جمعہ کو امن کے لیے دنیا کے معتبر ترین انعام نوبیل کے حقدار بھی مشترکہ طور پر ان ہی دو ملکوں سے ہیں جنہوں نے دونوں ہمسایہ ملکوں میں مل کر کام کرنے پر تبادلہ خیال کیا۔

نوبیل انعام پاکستانی طالبہ ملالہ یوسفزئی اور بھارت میں بچوں کے حقوق کے سرگرم کارکن کیلاش ستیارتھی کو مشترکہ طور پر دسمبر میں اوسلو میں ہونے والی ایک تقریب میں دیا جائے گا۔

ہفتہ کو کیلاش نے ملالہ کو فون کیا اور انھیں انعام جیتے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ان دونوں کو مل کر اپنے ملکوں کے درمیان امن کے لیے کام کرنا چاہیئے۔

بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق ملالہ نے ستیارتھی کے خیالات کو سراہا۔

اس سے قبل جمعہ کو انگلینڈ کے شہر برمنگھم میں ایک پریس کانفرنس کے دوران ملالہ یوسفزئی نے بھی اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ نوبیل انعام دیے جانے کی تقریب میں بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی اور پاکستانی وزیراعظم نواز شریف شریک ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کے درمیان امن ترقی کے لیے بہت اہم ہے اور یہ بہت مناسب ہو گا کہ اگر دونوں ملک اپنے اپنے ہاں تعلیم کے فروغ پر خصوصی توجہ دیں۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان رواں ماہ کشمیر پر لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر ایک دوسرے کی فورسز کی طرف سے فائرنگ کے واقعات تعلقات میں تازہ کشیدگی کا باعث بنے ہیں۔

ان واقعات میں 13 پاکستانی اور آٹھ بھارتی شہری ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ دونوں ملکوں کی سیاسی قیادت اور اعلیٰ عہدیداروں کی طرف سے تند و تیز بیانات بھی سامنے آ چکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG