رسائی کے لنکس

سعودی عرب: ٹریفک حادثات میں تشویش ناک اضافہ

  • کراچی

AccidentsInKSA

AccidentsInKSA

ماہرین کے مطابق سعودی عرب میں یومیہ 19ٹریفک حادثات ہوتے ہیں۔ ان حادثات کی تعداد میں رواں برس 10فیصد اضافہ ہوا ہے۔

سعودی عرب میں ٹریفک حادثات کی تعداد میں روز بہ روزاضافہ ہورہاہے ۔اور روزانہ کم ازکم 19حادثے ہوتے ہیں۔ یہ تعداد تمام خلیجی ممالک کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔ ان حادثات میں ہرسال سینکڑوں جانیں ضائع ہوجاتی ہیں جبکہ ملکی معیشت کو بھی خاصا نقصان پہنچ رہا ہے۔

سعودی عرب کے سرکاری خبر رساں ادارے سعودی پریس ایجنسی کی ایک رپورٹ کے مطابق رواں ہفتے خلیجی ممالک میں ٹریفک حادثات پر متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی میں ایک کانفرنس منعقد ہوئی جس میں روڈ سیفٹی کے ماہرین نے اپنی تجاویز پیش کیں۔

ماہرین کے مطابق سعودی عرب میں یومیہ 19ٹریفک حادثات ہوتے ہیں۔ رواں برس اس تعداد میں 10فیصد اضافہ ہوا ہے۔ انٹیلی جنس ٹرانسپورٹ سسٹم عربیہ کی جنرل سیکرٹری زینا نظر نے کانفرنس کو بتایا کہ حادثات کی وجہ سے سعودی عرب کے خزانے پر مسلسل بوجھ بڑھ رہا ہے۔ حکومت حادثات پر ہرجانے ،امداد اور انشورنس کی مد میں سالانہ لاکھو ں ڈالر ادا کررہی ہے۔

ماہرین نے کانفرنس کو بتایا کہ سعودی عرب کی حکومت کی جانب سے کیے جانے والے متعدد اقدامات کے باوجود سعودی سڑکیں دنیا بھر میں سب سے زیادہ خطرناک ہیں۔ماہرین نے حادثات کی سر فہرست وجوہات میں ناتجربہ کار اور کم عمر ڈرائیورز اور ان کی غفلت کو قراردیا ۔

کانفرنس میں اعداد وشمار پیش کرتے ہوئے زینا نظر نے بتایا کہ سعودی عرب کو حادثات کے باعث سالانہ 6ارب ڈالر کا نقصان ہورہا ہے جبکہ حادثے میں زخمی ہونے والوں کی طبی امداد پراٹھنے والی سالانہ دوکروڑ پچاس لاکھ ڈالر کی رقم اس کے علاوہ ہے ۔

انہوں نے بتایا کہ خلیجی ممالک میں یومیہ 19افراد ٹریفک حادثے میں لقمہ اجل بن جاتے ہیں ۔یہ اعدادو شمار ظاہر کرتے ہیں کہ دنیا بھر میں خلیجی ممالک ،خاص طور سے سعودی عرب ،روڈ سیفٹی کے لحاظ سے نہایت خطرناک ہیں۔

ادھر ریاض کے ایک صحافی مصطفی ٰ حبیب صدیقی نے عالمی ادارہ برائے صحت ڈبلیوایچ او کی ایک رپورٹ کے حوالے سے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ خلیجی ممالک کے ڈرائیوز کو برطانوی ڈرائیورزکے مقابلے میں حادثات کے 7گناہ زیادہ خطرات کا سامنا ہوتاہے۔سعودی عرب میں زیادہ حادثات کی ایک وجہ ڈرائیورز کا اپنی لین میں نہ رہنااور غیر ضروری اوورٹیکنگ بھی ہے۔

سعودی عرب نے حادثات پر قابو پانے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں جن میں ”آٹومیٹک ٹریفک وائلیشن ایڈمنسٹرنگ اینڈ مانیٹرنگ سسٹم“ بھی شامل ہے۔ یہ سسٹم ریاض، جدہ، مکہ ، مدینہ ،تبوک اور قسیم میں نصب کیا گیا ہے۔ جس میں سڑکوں پر رواں ٹریفک کی ازخود تصاویر بنتی ہیں اور ٹریفک کی نگرانی ہوتی ہے۔ تاہم وقت کا تقاضہ یہ ہے کہ اس جیسے مزید اقدامات اٹھائے جائیں ۔
XS
SM
MD
LG