رسائی کے لنکس

سعودی عرب میں القاعدہ کے خلاف آپریشن:149گرفتار


سعودی عرب کا کہنا ہے کہ پچھلے آٹھ ماہ میں اس نے القاعدہ سے تعلق رکھنے والے تقریباً ڈیڑھ سو مشتبہ افراد گرفتار کئے ہیں۔

سعودی وزارت داخلہ کے ترجمان منصور الترکی نے جمعے کو ایک بیان میں کہا کہ گرفتار شدہ افراد مبینہ طور پر سرکاری حکام، سیکیورٹی کے اہلکاروں اور میڈیا کے اراکین پر حملوں کی منصوبہ بندی میں ملوث تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ دہشت گردی کے لئے فنڈز اکٹھے کرنے اور دھماکہ خیز مواد کے استعمال کی تربیت دینے میں بھی ملوث تھے۔

ترجمان نے مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی فورسز نے مشتبہ افراد کے قبضے سے تقریباً چھ لاکھ ڈالر کی بھی برآمد کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کچھ نے مبینہ طور پر حج اور عمرے کے دوران لوگوں سے چندہ جمع کیا اور عسکریت پسندی کے خیالات کا پرچار کیا۔

ترکی نے بتایا کہ ملزمان میں سعودیوں کے علاوہ دوسری قومیتوں کے افراد بھی ہیں جو القاعدہ کے 19سیلز یا گروہوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان میں 25غیر ملکی ہیں جن کا تعلق افریقہ اور جنوبی ایشیا سے ہے۔ وزارت داخلہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ان میں ایک خاتون بھی شامل ہے۔

سعودی حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار شدہ مشتبہ افراد کا تعلق یمن میں القاعدہ کی شاخ سے ہے جبکہ کچھ دوسرے افغانستان اور صومالیہ میں القاعدہ کے گروہوں سے تعلق رکھتے ہیں۔

حکام کا دعویٍٰ ہے کہ ان گرفتاریوں کے باعث دہشت گردی کے دس منصوبے بے نقاب کئے گئے ہیں۔ اور پچھلے کئی مہینوں میں سعودی عرب میں کیا جانے والا یہ سب سے بڑا آپریشن تھا۔ اس ماہ کے اوائل میں سعودی حکام نے کہا تھا کہ القاعدہ کی جانب سے ملک میں حج کے دوران کوئی ممکنہ دہشت گرد کارروائی کی جا سکتی ہے۔

سعودی وزیر داخلہ شہزادہ نائف بن عبدالعزیز نے کہا ہے کہ القاعدہ یا دوسرے عسکریت پسندپڑوسی ملک یمن سے ملک میں داخل ہو سکتے ہیں جو مبینہ طور پر دہشت گرد گروہوں کی آماجگاہ بنتا جا رہا ہے۔

XS
SM
MD
LG