رسائی کے لنکس

سعودی عرب: سرکاری شعبوں میں مراعات میں کٹوتی کا فیصلہ


فرمانروا سلمان بن عبدالعزیز اپنے ولی عہد اور نائب ولی عہد کے ہمراہ (فائل فوٹو)

فرمانروا سلمان بن عبدالعزیز اپنے ولی عہد اور نائب ولی عہد کے ہمراہ (فائل فوٹو)

یہ واضح نہیں کہ اس سے کتنے لوگ متاثر ہوں گے لیکن سعودی عرب کے 70 فیصد لوگ سرکاری ملازمت کرتے ہیں اور گزشتہ سال ان کی تنخواہوں اور دیگر مراعات کی مد میں حکومت نے 120 ارب ڈالر خرچ کیے تھے۔

سعودی عرب کے فرمانروا سلمان بن عبدالعزیز نے وزرا سمیت اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کی تنخواہوں اور مراعات میں کمی کا حکم دیا ہے اور یہ فیصلہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی سے اس ملک کی معیشت کو درپیش مشکلات کو ظاہر کرتا ہے۔

پیر کو سامنے آنے والے حکمانے میں ولی عہد شہزادہ محمد بن نائف سمیت تمام وزرا کی تنخواہوں میں 20 فیصد کمی کے علاوہ یہ بھی کہا گیا کہ ذاتی طور پر استعمال ہونے والے فون کے بل بھی یہ وزرا خود ادا کریں گے۔

ملک کے اعلیٰ ترین مشاورتی ادارے "مجلس شوریٰ" کے ارکان کی مراعات میں بھی 15 فیصد کمی کا اعلان کیا گیا جن میں رہائش، گاڑی اور ایسی ہی سہولتوں کی مد میں دی جانے والی رقم کٹوتی شامل ہے۔

اس حکمنامے کے ساتھ کابینہ کی طرف سے یہ یہ فیصلہ بھی سامنے آیا کہ تمام سرکاری ملازمین کی تنخواہیں اور مراعات محدود کی جائیں جب کہ حکومت کے لیے کام کرنے والے غیر ملکی کارکنوں کے کنٹریکٹس کی تجدید نہ کرنے کا بھی بتایا گیا ہے۔

تاحال یہ واضح نہیں کہ اس سے کتنے لوگ متاثر ہوں گے لیکن سعودی عرب کے 70 فیصد لوگ سرکاری ملازمت کرتے ہیں اور گزشتہ سال ان کی تنخواہوں اور دیگر مراعات کی مد میں حکومت نے 120 ارب ڈالر خرچ کیے تھے۔

تاہم تنخواہوں میں کٹوتی کے فیصلے کا اطلاق یمن میں فوجی آپریشنز میں حصہ لینے والے فوجیوں پر نہیں ہوگا۔

علاوہ ازیں سرکاری شعبوں میں کسی بھی طرح کی نئی بھرتی پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

اس فیصلے کا اطلاق آئندہ ہفتے اسلامی سال کے شروع ہونے والے پہلے مہینے سے ہوگا۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ حالیہ مہیںوں میں یہ خبریں سامنے آئی تھیں کہ ہزاروں پاکستانی بھی اپنی کمپنیوں کی طرف سے تنخواہیں نہ ملنے کے باعث سعودی عرب میں پھنسے ہوئے ہیں۔

سعودی فرمانروا کی مداخلت پر ان کمپنیوں نے تنخواہیں جاری کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن ان کمپنیوں کا کہنا ہے کہ مشکل معاشی صورتحال کے باعث ان کے لیے ان ملازمین کو کام پر رکھنا ممکن نہیں رہا ہے۔

XS
SM
MD
LG