رسائی کے لنکس

لفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) عبد القیوم نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ مشرق وسطیٰ اور خطے کی سکیورٹی کی صورت حال کے حوالے سے شہزادہ محمد بن سلمان کا اس وقت پاکستان آنا اہمیت کا حامل ہے۔

سعودی عرب کے وزیر دفاع اور نائب ولی عہد محمد بن سلمان بن عبدالعزیز نے اتوار کی شب پاکستان کا مختصر دورہ کیا، جہاں اُنھوں نے پاکستان کی اعلیٰ سیاسی اور عسکری قیادت سے ملاقاتوں میں باہمی دلچسپی کے امور سمیت دفاع اور سلامتی سے متعلق اُمور پر بات چیت کی۔

شہزادہ محمد بن سلمان کی اعلیٰ سطحی ملاقاتوں میں خطے کی سلامتی اور انسداد دہشت گردی کے معاملات بھی زیر بحث آئیں گے۔

وزیراعظم نواز شریف کے علاوہ پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف سے ملاقات کی۔

ان ملاقاتوں کے بعد جاری سرکاری بیان کے مطابق علاقائی اُمور خاص طور پر مشرق وسطیٰ کی صورت حال پر بات چیت کی گئی۔

سعودی وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان ایک ایسے وقت پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں جب مشرق وسطیٰ اور خاص طور پر شام میں صورت حال تیزی سے بدل رہی ہے جو نا صرف خطے کے ممالک بلکہ خطے کے باہر کے ملکوں پر بھی اثر انداز ہو گی۔

پاکستان کی حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر اور ایوان بالا کی قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار کے چیئرمین لفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) عبد القیوم نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ مشرق وسطیٰ اور خطے کی سکیورٹی کی صورت حال کے حوالے سے شہزادہ محمد بن سلمان کا اس وقت پاکستان آنا اہمیت کا حامل ہے۔

"دورہ تو یہ بہت اہم ہے جب آپ بین الاقوامی صورت حال کو دیکھتے ہیں اور آپ دیکھتے ہیں کہ اب روس اور امریکہ بھی شام کے بارے میں کچھ نا کچھ بات کر رہے اس کے علاوہ مشرق وسطیٰ کی صورت حال جہاں آپ دیکھ رہے ہیں کہ ایران میں چابہار میں بھارت اور افغانستان کے درمیان کچھ پیش رفت ہو رہی ہے ۔ افغانستان کی صورت حال آپ کے سامنے ہے ۔ ان حالات میں سعودی عرب جو ہمارا بہت ہی قریبی ملک ہے کے ساتھ ایسی صورت حال پر تبادلہ خیال کرنا اور پھر دہشت گردی کے خلاف ہماری حکمت عملی کا ایک ہونا بہت ضروری ہے۔"

حالیہ مہینوں میں سعودی عرب سمیت مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک میں شدت پسند گروپ داعش کی بڑھتی ہوئی کارروائیاں سعودی عرب سمیت خطے کے تمام ممالک کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال سعودی عرب نے دہشت گردی کے خلاف 30 سے زائد اسلامی ممالک پر مشتمل ایک فوجی اتحاد بنانے کا اعلان کیا تھا جس میں پاکستان بھی شامل ہے۔

پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کی طرف سے یہ بیان سامنے آتے رہے ہیں کہ سعودی عرب کی سالمیت کو اگر کوئی خطرہ ہوا تو پاکستان اس کا بھرپور جواب دے گا۔

لفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) عبدالقیوم نے کہا کہ صرف دہشت گردی کے خلاف اگر کوئی بھی اتحاد بنتا ہے تو پاکستان اس میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے تاہم انہوں نے کہا کہ اس کے لیے ضروری ہے کہ ایران کے تحفظات کا خیال رکھا جائے۔

’’ایران کے جو جائز تحفظات ہیں ان کو دور کرنا ضروری ہے اور ایران کو پتہ ہو گا کہ یہ محاذ ان کے خلاف نہیں ہے بلکہ اگر وہ اس محاذ میں شامل ہونا چاہتے ہیں تو ان کا خیر مقدم کرنا ضروری ہے کیونکہ وہ بھی نہیں چاہتے کہ دہشت گردی ہو۔ پاکستان کا بڑا واضح موقف ہے کہ پوری دنیا دہشت گردی کے خلاف یک زبان ہے اگر مسلم امہ کے اہم 34 ملک اس میں شامل ہوتے ہیں تو یہ ایک مثبت پیش رفت ہے کیونکہ جو زیادہ ملک (دہشت گردی کے ) نشانے پر ہیں وہ مسلمان ملک ہی ہیں"۔

تاہم انہوں نے کہا کہ اس میں ایران سمیت سب مسلم ممالک کو شامل کیا جانا چاہیئے۔

پاکستانی حکام کے مطابق اُن کا ملک پہلے بھی دہشت گردی کے خلاف مختلف ممالک کے ساتھ تعاون جاری رکھے ہوئے ہے اور انسداد دہشت گردی کے اپنے تجربات کا دوسرے ملکوں سے تبادلہ کرنے کو تیار ہے۔

دوسری طرف سے امریکہ کے ایک موقر اخبار نیویارک ٹائمز میں چھپنے والے ایک مضمون میں سعودی عرب کی طرف سے دیگر ملکوں میں بنیاد پرست سوچ کی ترویج کرنے والے مدرسوں اور مساجد کے لیے فراہم کی جانے والی معاونت نوجوانوں کے ذہنوں میں انتہا پسندی کے فروغ کا باعث بن رہی ہے اور اس کے انتہائی خطرناک نتائج ہو سکتے ہیں۔

اگرچہ سعودی عرب کی طرف سے اس بارے میں کوئی ردعمل تو سامنے نہیں آیا تاہم ماضی میں سعودی حکومت ایسے الزامات کو رد کرتی رہی ہے کہ کسی دوسرے ملک میں اپنے نظریے کے فروغ کے لیے وہ مدارس کو مالی اعانت فراہم کرتی ہے۔

پاکستان میں بھی کچھ حلقوں میں اس طرح کے تحفظات کا اظہار کیا جاتا ہے کہ انتہا پسندی میں ملوث مدارس کو فنڈز کی فراہمی روکنا ضروری ہے اس سلسلے میں سرکاری سطح پر ان اداروں پر براہ راست دوسروں ملکوں سے فنڈز وصول کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔

XS
SM
MD
LG