رسائی کے لنکس

ایران سے مذاکرات نہیں ہو سکتے: سعودی نائب ولی عہد


شہزادہ محمد بن سلمان (فائل فوٹو)

شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ "ہمیں علم ہے کہ ایرانی حکومت کا مقصد مسلمانوں کے مرکز (مکہ) تک پہنچنا ہے اور ہم اس وقت کا انتظار نہیں کریں گے کہ سعودی عرب کے اندر جنگ ہو۔

سعودی عرب کے نائب ولی عہد نے کہا ہے کہ "اسلامی دنیا کا کنٹرول" حاصل کرنے کے مقاصد رکھنے والے حریف ملک ایران کے ساتھ مذاکرات کا کوئی امکان نہیں ہے۔

منگل کو سعودی عرب کے مختلف ٹی وی چینلز پر نشر ہونے والے انٹرویو میں شہزادہ محمد بن سلمان کا کہنا تھا کہ "میں کسی ایسے شخص یا حکومت کے ساتھ کس طرح ہم آہنگ ہو سکتا ہوں جو ایک انتہا پسندی نظریات پر مبنی عقیدہ رکھتا ہو؟ ہمارے درمیان کیا مفادات ہیں؟ میں اس کے ساتھ کیسے کسی سمجھوتے پر پہنچ سکتا ہوں؟"

سعودی فرمانروا کے 31 سالہ صاحبزادے شہزادہ محمد بن سلمان ملک کے وزیر دفاع بھی ہیں اور یمن میں ایران کے حمایت یافتہ شیعہ حوثی باغیوں کے خلاف جنگ کی نگرانی بھی کر رہے ہیں۔

اپنے انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ تہران کا مقصد "اسلامی دنیا کا کنٹرول حاصل کرنا" اور انتہائی قابل احترام امام محمد المہدی کے ظہور کی تیاریوں کے سلسلے میں شیعہ نظریات کو فروغ دینا ہے۔

شیعہ مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ امام مہدی ان کے مسلک کے بارہویں امام ہیں جو کہ ایک ہزار سال قبل غائب ہو گئے تھے اور قیامت آنے سے قبل دنیا بھر میں اسلامی حکومت قائم کرنے کے لیے وہ واپس آئیں گے۔

سعودی شہزادے کا کہنا تھا کہ ایرانیوں کا خیال ہے کہ "امام مہدی آئیں گے اور ان کی آمد سے قبل وہ موافق فضا تیار کرے۔۔۔اور وہ مسلم دنیا کا کنٹرول حاصل کرے۔"

انھوں نے مزید کہا کہ "ہمیں علم ہے کہ ایرانی حکومت کا مقصد مسلمانوں کے مرکز (مکہ) تک پہنچنا ہے اور ہم اس وقت کا انتظار نہیں کریں گے کہ سعودی عرب کے اندر جنگ ہو۔ ہم اس پر کام کریں گے کہ یہ جنگ ان کی طرف ہو، ایران میں ہو نہ کہ سعودی عرب میں۔"

سعودی عرب ایک کٹڑ سنی مسلمان سلطنت ہے جس کے ایران کے ساتھ تعلقات 1979ء میں انقلاب ایران کے بعد سے کشیدہ ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG