رسائی کے لنکس

عراق میں سعودی سفارتخانہ دوبارہ کھل گیا


ابراہیم الجعفری (فائل)

ابراہیم الجعفری (فائل)

عراقی حکام کا کہنا ہے کہ جمعرات کو سفارتکاروں نے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو وسعت دینے کے معاملے پر تبادلہٴ خیال کیا

سعودی عرب نے 25 سال بعد عراقی دارالحکومت میں اپنا سفارتخانہ دوبارہ کھول دیا ہے۔ عراقی وزیر خارجہ ابراہیم الجعفری نے سعودی سفیر تمر الصبحان سے ان کی سفارتی اسناد وصول کیں۔

عراقی حکام کا کہنا ہے کہ منگل کو سفارتکاروں نے دونوں اقوام کے درمیان تعلقات کو وسعت دینے کے معاملے پر تبادلہٴ خیال کیا۔

سعودی عرب نے 1990ء میں کویت پر صدام حسین کی آمرانہ حکومت کے حملے کے بعد، عراق سے سفارتی تعلقات منقطع کر دیے تھے اور بغداد میں قائم اپنا سفارتخانہ بند کردیا تھا۔

سعودی عرب کے سفارتخانے کا دوبارہ کھلنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عراق اور خلیج کی دیگر اقوام کے درمیان تعلقات پر جمی برف پگھلنے لگی ہے، حالانکہ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ عراق کی نئی شیعہ قیادت کی سعودی عرب کے سب سے اہم علاقائی حریف شیعہ ایران کے ساتھ زیادہ قریبی تعلقات ہیں۔

وزیر اعظم حیدر العابدی کے 2014ء میں اقتدار میں آنے کے بعد عراق اور خلیج کی سنی حکمراں ریاستوں کے درمیان تناؤ میں کمی آئی ہے۔

وزیر اعظم عبادی کے پیش رو نوری المالکی نے قطر اور سعودی عرب پر داعش کے باغیوں کو مالی امداد فراہم کرنے کا الزام عائد کیا تھا، جس کی دونوں ممالک نے تردید کی تھی۔

قطر کے امیر نے 25 برس قبل، اپنا سفارتخانہ بند کرنے کے بعد کئی ماہ پہلے پہلی بار عراق میں زید الخیری کو قطر کا سفیر مقرر کر دیا تھا۔

XS
SM
MD
LG