رسائی کے لنکس

مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورت حال خاص طور پر سعودی عرب اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی کے تناظر میں یہ دورہ خاصی اہمیت کا حامل ہے۔

سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل بن احمد الجبیر جمعرات کو اسلام آباد پہنچے۔

اُنھوں نے اسلام آباد آمد کے بعد پہلی ملاقات پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف سے کی۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ’آئی ایس پی آر‘ سے جاری ہونے والے ایک مختصر بیان کے مطابق ملاقات میں علاقائی سلامتی سے متعلق اُمور پر بات چیت کی گئی۔ بیان کے مطابق سعودی عرب کے وزیر خارجہ نے دہشت گردی کے خلاف قابل ذکر کامیابی اور علاقائی استحکام کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔

مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورت حال خاص طور پر سعودی عرب اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی کے تناظر میں یہ دورہ خاصی اہمیت کا حامل ہے۔

سعودی وزیر خارجہ نے تین جنوری کو پاکستان آنا تھا لیکن عین وقت پر یہ دورہ موخر کر دیا گیا اور اس کی بظاہر وجہ سعودی عرب میں شیعہ عالم دین شیخ نمر النمر سمیت 47 افراد کی سزائے موت پر عمل درآمد کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال تھی۔

شیخ نمر کی سزائے موت پر عمل درآمد کے بعد ایران کی طرف سے نا صرف اس اقدام پر شدید تنقید کی گئی بلکہ تہران میں مشتعل مظاہرین نے سعودی سفارت خانے پر دھاوا بھول کر وہاں توڑ پھوڑ بھی کی۔

تہران میں اپنے سفارت خانے پر حملے کے بعد سعودی عرب نے ایران سے سفارتی تعلقات ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اپنے ہاں موجود ایران کے تمام سفارتی عملے کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا۔

مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں بدستور اضافہ جاری ہے اور سعودی عرب کے بعد بحرین، سوڈان، کویت اور اب قطر نے بھی ایران سے اپنے سفیر واپس بلا لیے ہیں۔

اس تناظر میں پاکستان میں بھی بحث جاری ہے اور بیشتر سیاسی جماعتوں اور مذہبی حلقوں کی طرف سے یہ زور دیا جا رہا ہے کہ پاکستان اس کشیدگی کو کم کرنے میں اپنا کردار ادا کرے۔

اُدھر پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا کے نگران ادارے ’پیمرا‘ نے ملک میں نجی نشریاتی اداروں کو ہدایت کی ہے کہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی کے تناظر میں وہ اپنے پروگراموں میں غیر جانبدارنہ بحث کو یقینی بنائیں اور معاملے کو متنازع نا بنایا جائے۔

پاکستان کی قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اُمور خارجہ کے چیئرمین اویس لغاری نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ اسلام آباد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو کم کرانے میں کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔

’’پاکستان کے دونوں ممالک (ایران اور سعودی عرب) کے ساتھ تعلقات بہت حساس اور اہم ہیں۔ ہم ان دونوں ممالک میں کسی ایک کے ساتھ بھی اپنے تعلقات کو کم ہوتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتے۔ پاکستان کو خدشات ہیں کہ مشرق وسطیٰ کے اندر جو فرقہ وارانہ خلیج پیدا ہوئی ہے، اُس خلیج کو کم کیا جائے۔‘‘

توقع کی جا رہی ہے کہ پاکستان سعودی وزیر خارجہ کے اس دورے کے دوران مشرق وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی پر تفصیلی تبادلہ خیال کے علاوہ اس معاملے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور دے گا۔

رواں ہفتے پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف کے مشیر برائے اُمور خارجہ سرتاج عزیز نے قومی اسمبلی میں اپنے پالیسی بیان میں کہا تھا کہ پاکستان اس کشیدگی میں کمی کے لیے کردار ادا کرے گا۔

اویس لغاری کہتے ہیں کہ کسی بھی ملک کو اپنے طور پر اس کشیدگی کو کم کرانے میں کردار ادا کرنے کی بجائے مشترکہ طور پر کوششیں کرنی چاہیئے۔

’’پاکستان کو میرے خیال میں (مسلمان ممالک کی تنظیم) او آئی سی کو استعمال کرنا چاہیئے۔ آٹھ دس ممالک کو اکٹھے کر کے دونوں ممالک (سعودی عرب اور ایران) کے ساتھ رابطہ کرنا چاہیئے۔ اس وقت صرف ملائیشیا (کوشش) کرے گا یا صرف ترکی کوشش کرے یا کوئی اور ملک اپنے طور پر کرے گا تو اس کی اتنی اہمیت نہیں ہو گی جتنی آٹھ دس ممالک کی طرف سے مشترکہ طور پر کیے جانے والے رابطے کی اہمیت ہو گی۔‘‘

سعودی وزیر خارجہ پاکستانی وزیراعظم نواز شریف سے بھی الگ الگ ملاقاتیں کریں گے۔

واضح رہے کہ حال ہی میں سعودی عرب نے دہشت گردی کے خلاف اسلامی ممالک پر مشتمل ایک اتحاد کے قیام کا اعلان کیا تھا جس میں پاکستان کا نام بھی شامل ہے۔

سعودی وزیر خارجہ کی پاکستان آمد کا مقصد اس اتحاد کے بارے میں پاکستانی قیادت کو اعتماد میں لینا ہے کیوں کہ جب اتحاد کا اعلان کیا گیا تو پاکستان کی طرف سے ابتدا میں یہ موقف سامنے آیا کہ اُسے اس سلسلے میں مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔

پاکستان کی طرف سے اگرچہ یہ کہا جا چکا ہے کہ وہ اس اتحاد کا حصہ ہے لیکن ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا گیا کہ اس بات کا تعین کیا جانا باقی ہے کہ اس فوجی اتحاد میں پاکستان کس حد تک کردار ادا کر سکتا ہے۔

ملک میں مختلف حلقوں بشمول سیاسی جماعتوں کی طرف سے بھی حکومت سے یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اس معاملے پر پارلیمان کو اعتماد میں لے۔

سعودی عرب کی طرف سے اسلامی ممالک پر مشتمل جس فوجی اتحاد کا اعلان کیا گیا اُس میں ایران، عراق اور شام شامل نہیں ہیں۔ اس تناظر میں پاکستانی قانون سازوں کا موقف ہے کہ اسلام آباد کو اس بارے میں انتہائی احتیاط برتنی چاہیئے۔

XS
SM
MD
LG