رسائی کے لنکس

سعودی عرب: انٹیلی جنس ادارے کے سربراہ تبدیل


سعودی عرب کے سابق انٹیلی جنس سربراہ شہزادہ بندر بن سلطان

سعودی عرب کے سابق انٹیلی جنس سربراہ شہزادہ بندر بن سلطان

منگل کو جاری کیے جانے والے ایک شاہی حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ شہزادہ بندر کو ان کی اپنی درخواست پر ذمہ داریوں سے فارغ کیا جارہا ہے

سعودی عرب کے حکمران شاہ عبداللہ نے ملک کی انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ شہزادہ بندر بن سلطان کو فارغ کرتے ہوئے ان کی جگہ ان کے نائب کو انٹیلی جنس چیف کے فرائض انجام دینے کا حکم دیا ہے۔

سعودی عرب کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق منگل کو جاری کیے جانے والے ایک شاہی حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ شہزادہ بندر کو ان کی اپنی درخواست پر ذمہ داریوں سے فارغ کیا جارہا ہے اور ان کی جگہ جنرل یوسف الادریسی کو 'جنرل انٹیلی جنس' کی ذمہ داریاں انجام دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

جنرل ادریسی شہزادہ بندر بن سلطان کے نائب کی حیثیت سے کام کر رہے تھے۔ شاہی حکم نامے میں اس اہم تبدیلی کے بارے میں مزید کوئی تفصیل فراہم نہیں کی گئی ہے۔

شہزادہ بندر بن سلطان کو جولائی 2012ء میں سعودی انٹیلی جنس کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا اور انہیں شام سے متعلق سعودی حکمتِ عملی کا اصل نقشہ ساز قرار دیا جاتا ہے۔

شہزادہ بندر کے انٹیلی جنس امور کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد سعودی عرب کی جانب سے شام کے صدر بشار الاسد کے خلاف لڑنے والے باغیوں کی حمایت میں واضح اضافہ ہوا تھا اور انہوں نے باغیوں کے لیے ہمدری کے حصول کی غرض سے کئی ممالک کے دورے بھی کیے تھے۔

تاہم شہزادہ بندر بن سلطان گزشتہ سال کے آغاز سے بیماری کے باعث چھٹیوں پر تھے۔ اطلاعات تھیں کہ ان کا امریکہ میں آپریشن ہوا ہے جس کے بعد وہ آرام کی غرض سے مراکش میں مقیم ہیں۔

شہزادہ بندر انٹیلی جنس سربراہ مقرر ہونے سے قبل امریکہ میں سعودی عرب کے سفیر تھے اور انہوں نے گزشتہ سال اکتوبر میں خبردار کیا تھا کہ اگر امریکہ نے شام کے معاملے پر سخت موقف نہ اپنایا تو اس کے ساتھ سعودی عرب کے تعلقات میں "بڑی تبدیلی" آسکتی ہے۔
XS
SM
MD
LG