رسائی کے لنکس

سعودی عرب کے وزیرخارجہ شہزادہ سعود الفیصل نے کہا کہ یمن کی تسلیم شدہ حکومت کی طرف سے سعودی عرب سے یہ درخواست کی گئی کہ وہ وہاں کی منتخب حکومت کی عمل داری بحال کرنے میں مدد کرے۔

سعودی عرب کے وزیرخارجہ شہزادہ سعود الفیصل نے کہا ہے کہ اُن کا ملک یمن کے بحران پر ایران کے ساتھ حالت جنگ میں نہیں ہے۔

اُنھوں نے یہ بات ریاض میں اپنے فرانسیسی ہم منصب لوغاں فبیوس کے ہمراہ نیوز کانفرنس کے دوران ایک سوال کے جواب میں کہی۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق جب شہزادہ سعود الفیصل سے پوچھا گیا کہ کیا سعودی عرب یمن کے معاملے پر ایران سے جنگ میں ہے تو اُنھوں نے اس کی تردید کی۔

اُنھوں نے کہا کہ یمن کی تسلیم شدہ حکومت کی طرف سے سعودی عرب سے یہ درخواست کی گئی کہ وہ وہاں کی منتخب حکومت کی عمل داری بحال کرنے میں مدد کرے، جس پر سعودیہ نے خلیجی اور دیگر عرب ممالک کی حمایت سے یہ کارروائی شروع کی۔

اُنھوں نے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ ایران یمن کی تسلیم شدہ حکومت کے خلاف ’’مجرمانہ‘‘ سرگرمیوں کے لیے حوثی باغیوں کو اسلحہ اور دیگر سامان فراہم نہیں کرے گا۔

اُنھوں نے یہ بھی بتایا کہ گلف تعاون کونسل ’جی سی سی‘ کے رہنماؤں اور امریکہ کے صدر براک اوباما کے درمیان کیمپ ڈیوڈ میں غالباً رواں ماہ کے اواخر میں ملاقات ہو گی۔

XS
SM
MD
LG