رسائی کے لنکس

شاہ عبداللہ کی عمر 91 برس تھی اور وہ 2005ء میں اپنے پیش رو شاہ فہد کے انتقال کے بعد ملک کے بادشاہ بنے تھے۔ ان کے انتقال کے بعد ولی عہد سلمان بن عبدالعزیز سعودی عرب کے نئے بادشاہ بن گئے ہیں۔

سعودی عرب کے فرمانروا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز السعود انتقال کرگئے ہیں جس کے بعد ان کے بھائی اور ولی عہد سلمان بن عبدالعزیز ملک کے نئے بادشاہ بن گئے ہیں۔

شاہ عبداللہ کے انتقال کا اعلان جمعے کو علی الصباح سلمان بن عبدالعزیز کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کیا گیا ہے۔

سرکاری ٹی وی پر نشر کیے جانے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ سلمان بن عبدالعزیز ، آلِ سعود اور سعودی قوم "خادم الحرمین الشریفین شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کے انتقال پر انتہائی افسردہ ہے جو جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب ٹھیک ایک بجے دارِ فانی سے کوچ کرگئے ہیں"۔

شاہ عبداللہ گزشتہ کچھ ہفتوں سے نمونیا کے مرض میں مبتلا اور اسپتال میں داخل تھے۔ سرکاری ٹی وی کے مطابق ان کی نمازِ جنازہ جمعے کی شام دارالحکومت ریاض کی امام ترکی بن عبداللہ مسجدمیں ادا کی جائے گی جس میں کئی عالمی رہنماؤں کی شرکت متوقع ہے۔

شاہ عبداللہ کی عمر 91 برس تھی اور وہ اگست 2005ء میں اپنے پیش رو شاہ فہد کے انتقال کے بعد ملک کے بادشاہ بنے تھے۔

لیکن شاہ عبداللہ نے ولی عہد ہونے کے ناتے 1996ء سے ہی اپنے پیش رو شاہ فہد کی علالت کے باعث عملاً ملک کے باگ دوڑ سنبھالی ہوئی تھی۔

شاہ عبداللہ کو سعودی عرب کے روایتی قدامت پسند حلقوں میں ایک اصلاح پسند تصور کیا جاتا تھا جو عموماً سخت گیر سعودی علما کے برعکس ریاستی امور میں نسبتاً نرم موقف اختیار کرتے تھے۔

انہوں نے اقتدار سنبھالنے کے بعد سعودی نظامِ حکومت میں کئی اصلاحات بھی متعارف کرائی تھیں جس کے بعد خواتین کو نظمِ حکومت میں نچلی سطح پر نمائندگی اور معاشرے میں مزید حقوق حاصل ہوئے ہیں۔

سعودی عرب کے نئے بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز کی عمر 79 برس ہے اور انہیں مرحوم شاہ عبداللہ نے 2012ء میں ولی عہد اور ملک کا وزیرِ دفاع مقرر کیا تھا۔ وہ اس سے قبل پانچ دہائیوں تک دارالحکومت ریاض کے گورنر بھی رہے تھے۔

سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ سلمان بن عبدالعزیز نےنائب ولی عہد شہزادہ مقرن کو اپنا جانشین اور ولی عہد مقرر کردیا ہے اور شاہی خاندان میں نامزدگیوں کی نگران کونسل سے اس تقرری کی توثیق کرنے کی درخواست کی ہے۔

بادشاہ کا منصب سنبھالنے کے فوراً ہی بعد شہزادہ مقرن کو اپنا ولی عہد مقرر کرکے نئے سعودی فرمانروا نے اپنے جانشین کے متعلق ہونے والی قیاس آرائیوں کا بھی خاتمہ کردیا ہے۔

اکہتر سالہ شہزادہ مقرن مملکتِ سعودی عرب کے بانی شاہ عبدالعزیز السعود کے سب سے چھوٹے صاحبزادے ہیں اور گزشتہ دو برسوں سے مملکت کے نائب وزیرِاعظم کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

انہیں گزشتہ سال مارچ میں شاہ عبداللہ نے ملک کی تاریخ میں پہلی بار نائب ولی عہد مقرر کیا تھا۔ شہزادہ مقرن سعودی انٹیلی جنس کے سربراہ رہنے کے علاوہ مدینہ اور شمال مغربی صوبے حائل کے گورنر اور شاہ عبداللہ کے خصوصی مشیر بھی رہ چکے ہیں۔

دریں اثنا امریکہ کے صدر براک اوباما سمیت کئی ملکوں اور حکومتوں کے سربراہان نے سعودی بادشاہ کے انتقال پر اظہارِ تعزیت کیا ہے۔

'وہائٹ ہاؤس' سے جاری ہونے والے ایک بیان میں صدر اوباما نے شاہ عبداللہ کے اہلِ خانہ اور سعودی عوام کے ساتھ اپنی اور امریکی قوم کی جانب سے تعزیت اور دلی ہمدردی ظاہر کی ہے۔

اپنے بیان میں صدر اوباما نے مرحوم بادشاہ کی جرات، قوتِ فیصلہ اور سعودی عرب کو ایک بڑی معاشی قوت بنانے اور عرب اور مسلم ملکوں کی رہنمائی کے منصب پر فائز کرنے میں ان کی خدمات کی تعریف کی ہے۔

XS
SM
MD
LG