رسائی کے لنکس

سعودی شاہ کا 'نیشنل گارڈز' کو یمن آپریشن میں شرکت کا حکم


یمن کے دارالحکومت صنعا میں سعودی عرب کے خلاف حوثی باغیوں کے مظاہرے کا ایک منظر

یمن کے دارالحکومت صنعا میں سعودی عرب کے خلاف حوثی باغیوں کے مظاہرے کا ایک منظر

'سعودی عریبین نیشنل گارڈز' کا شمار بہترین تربیت کی حامل اور جدید ہتھیاروں سے مسلح فورس میں ہوتا ہے۔

سعودی عرب کے حکمران شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے ملک کی اہم ترین فورس'نیشنل گارڈز' کو پڑوسی ملک یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے خلاف جاری کارروائی میں شرکت کا حکم دے دیا ہے۔

'سعودی عریبین نیشنل گارڈز' کا شمار بہترین تربیت کی حامل اور جدید ہتھیاروں سے مسلح فورس میں ہوتا ہے۔

یمن میں گزشتہ ماہ سے جاری سعودی عرب اور اس کے اتحادی ملکوں کی فضائی کارروائی میں اب تک 'رائل سعودی ایئر فورس' حصہ لے رہی تھی جسے 'رائل سعودی لینڈ فورسز' کی معاونت بھی حاصل تھی۔

یہ دونوں فورسز سعودی عرب کی وزارتِ دفاع کے ماتحت ہیں جب کہ 'سعودی عریبین نیشنل گارڈز' ان سے الگ فوج ہے جس کی اپنی علیحدہ وزارت ہے۔

'سعودی نیشنل گارڈز' کے وزیر شہزادہ مطعب بن عبداللہ نے کہا ہے کہ شاہ سلمان کے حکم کے بعد 'نیشنل گارڈز' انتہائی چوکس اور یمن میں جاری 'آپریشن ڈیزرٹ اسٹارم' میں شرکت کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔

عرب ٹی وی 'العریبیہ' کے مطابق شہزادہ مطعب نے یمن میں جاری فوجی کارروائی میں شریک ہونے کے حکم کو "نیشنل گارڈز کے لیے ایک اعزاز" قرار دیا ہے۔

سعودی فرمانروا کی جانب سے 'نیشنل گارڈز' کو یمن میں جاری کارروائی میں شرکت کے حکم سےظاہر ہورہا ہے کہ شاید سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں نے یمن میں بری فوج بھیجنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

یمن کے شیعہ حوثی باغیوں کے خلاف سعودی عرب کی قیادت میں تشکیل پانے والے 10 ملکی عرب اتحاد کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل احمد عسیری نے گزشتہ ہفتے واضح کیا تھا کہ یمن میں اتحادی فوج ضرورت پڑنے پر ہی داخل کی جائے گی۔

سعودی عرب کی قیادت میں 26 مارچ سے جاری 'آپریشن ڈیزرٹ اسٹارم' میں عرب ملکوں کے فوجی طیارے یمن میں حوثی باغیوں اور ان کے اتحادی سابق صدر علی عبداللہ صالح کے حامی فوجی دستوں پر فضائی بمباری کر رہے ہیں تاکہ ان کی ملک کے دیگر علاقوں کی جانب پیش قدمی کو روکا جاسکے۔

فضائی حملوں میں 40 افراد ہلاک

یمن میں حوثی باغیوں کے ٹھکانوں پر عرب اتحادیوں کی فضائی بمباری منگل کو بھی جاری رہی جس میں کم از کم 40 افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق عرب طیاروں نے وسطی صوبے اِب میں ایک پل پر اس وقت بمباری کی جب وہاں سے باغیوں کا ایک قافلہ گزر رہا تھا۔ حملے میں کم از کم 20 افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں سے بیشتر عام شہری ہیں۔

عرب طیاروں نے سعودی عرب کی سرحد کے نزدیک واقع یمنی شہر حردہ میں بھی سکیورٹی فورسز کے زیرِ استعمال ایک عمارت پر بم برسائے جس کے نتیجے میں 13 عام شہریوں اور سات فوجی اہلکاروں کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔

XS
SM
MD
LG