رسائی کے لنکس

سعودی عرب: نئے بادشاہ کی طرف سے کابینہ میں ردوبدل


بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز

بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز

عموماً سینیئر سعودی شہزادوں کو مکہ اور ریاض کا گورنر مقرر کیا جاتا ہے اور اسے اعلیٰ عہدوں پر فائز ہونے کے لیے ایک سیڑھی قرار دیا جاتا ہے۔

سعودی عرب کے نئے فرمانروا سلمان بن عبدالعزیز نے کابینہ اور انتظامی عہدوں میں رد و بدل کی ہے اور شاہی فرمان کے مطابق مرحوم بادشاہ عبداللہ کے دوبیٹوں کو جو ریاض اور مکہ کے گورنر تھے انھیں بھی عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔

نئے بادشاہ سلمان نے اقتدار سنبھالنے کے ایک ہفتے کے بعد یہ رد و بدل کیا ہے لیکن خارجہ، داخلہ، خزانہ ، دفاع اور تیل کے امور کے وزرا کو ان کے عہدوں پر برقرار رکھا گیا ہے۔

ترکی بن عبداللہ کی جگہ فیصل بن بندر کو ریاض کا گورنر مقرر کیا گیا ہے جبکہ خالد الفیصل کو مشعل بن عبداللہ کی جگہ مکہ کا گورنر مقرر کیا گیا ہے۔ دو سال قبل بھی خالد الفیصل مکہ کے گورنر تھے لیکن بعد میں ان کی جگہ مشعل بن عبداللہ کو مکہ کا گورنر مقرر کیا گیا تھا۔

عموماً سینیئر سعودی شہزادوں کو مکہ اور ریاض کا گورنر مقرر کیا جاتا ہے اور اسے اعلیٰ عہدوں پر فائز ہونے کے لیے ایک سیڑھی قرار دیا جاتا ہے۔

شاہی فرمان کے مطابق کئی اعلیٰ مذہبی عہدیداروں کو بھی تبدیل کر دیا گیا ہے جو ممکنہ طورپر نئے بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز کی طرف سے سماجی اصلاحات کے متعلق ان کی پیش رفت کا اظہار ہے۔ انہوں نے وزارت انصاف اور مذہبی پولیس کے دو سربراہوں کو بھی تبدیل کر دیا ہے۔

نئے بادشاہ نے تیل کے وزیر علی النعمی، وزیر داخلہ ابراہیم العصاف اور وزیر خارجہ پرنس سعود الفیصل کو ان کے عہدوں پر برقرار رکھا ہے۔ اس کے علاوہ تجارت، محنت، ٹرانسپورٹ، اقتصادیات اور منصوبہ بندی کے وزرا کے عہدوں میں بھی کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔

سرکاری ٹی وی پر نشر کیے گئے شاہی فرمان کے مطابق انہوں نے تعلیم اور اعلیٰ تعلیم کی وزارتوں کو یکجا کر دیا ہے جبکہ پٹرولیم کی سپریم کونسل اور معدنیات کی وزارت کو ختم کر کے ان کی جگہ ایک نیا محکمہ قائم کیا ہے۔

سلمان بن عبدالعزیز جنہوں نے ایک ہفتہ قبل عبداللہ بن عبدالعزیز کی وفات کے بعد سعوی عرب کے بادشاہ کے منصب سنبھالا تھا، نے مرحوم بادشاہ کے ایک اور بیٹے شہزادہ متعب کو نیشنل گارڈ کے وزیر کے عہدے پر برقرار رکھا جو کہ اہم اسٹریٹجک عہدہ ہے۔

XS
SM
MD
LG