رسائی کے لنکس

شاہ سلمان کی ترکی آمد، فروغ پاتے ترک سعودی تعلقات


انقرہ

انقرہ

دونوں ملک شام کی حزب مخالف کے ٹھوس حامی ہیں، اور صدارتی محل میں سعودی بادشاہ اور ترک صدر رجب طیب اردوان کی بات چیت کے دوران یہ تنازع ایجنڈا پر سرفہرست ہونے کی توقع ہے

شام کی خانہ جنگی کے حوالے سے تعاون بڑھانے اور بڑھتی ہوئی ایرانی طاقت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے، ترکی اور سعودی عرب نے اپنے تعلقات مزید گہرے کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

سعودی بادشاہ سلمان پیر کو دارالحکومت انقرہ پہنچے، جن کے وفد میں کئی کئی سو ارکان شامل ہیں۔

جنوری 2015ء میں بادشاہت کے فرائض سنبھالنے کے بعد، یہ شاہ سلمان کا ترکی کا پہلا دورہ ہے۔

گذشتہ چند برسوں کے دوران، دونوں ملکوں کے تعلقات میں خاصہ اضافہ ہوا ہے۔

کارنیگی انسٹی ٹیوٹ کے دانش ور، سینان الگن، جو اِن دِنوں ترکی کے دورے پر ہیں، کہا ہے کہ شام کے معاملے پر دونوں ملکوں کے مقاصد مشترک ہیں، جس کے باعث دونوں کے تعلقات کو فروغ ملا ہے۔

الگن نے بقول، ''سعودی بادشاہت شام میں حکومت کی تبدیلی کے ایجنڈے کی حامی ہے۔ چونکہ ترکی کو شام میں اپنے مقاصد کو آگے بڑھانے میں خطے میں کسی اور ملک سے اضافی حمایت کی توقع نہیں، اس لیے سعودی عرب سے اُس کے تعلقات خاص اہمیت کے حامل ہیں''۔

دونوں ملک شام کی حزب مخالف کے ٹھوس حامی ہیں، اور صدارتی محل میں سعودی بادشاہ اور ترک صدر رجب طیب اردوان کی بات چیت کے دوران یہ تنازع ایجنڈا پر سرفہرست ہونے کی توقع ہے۔

تعلقات میں قربت کے باعث فوجی تعاون میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، اور فروری میں ترک افواج کے تعاون سے دونوں ملکوں نے مشترکہ فوجی مشقیں کی تھیں۔

توقع ہے کہ ایک اعلیٰ سطحی اسٹریٹجک کونسل کا قیام عمل میں لانے کے لیے اقدامات کو آخری شکل دی جائے گی۔

معاشی تعلقات بھی ایجنڈا کا حصہ ہیں، جس کے باعث سعودی بادشاہ کے ہمراہ ایک بڑا تجارتی وفد دورہ کر رہا ہے۔ گذشتہ سال باہمی تجارت تقریباً 6 ارب ڈالر تھی۔

XS
SM
MD
LG