رسائی کے لنکس

سعودی عرب میں روایت ہے کہ جب دو لوگ آپس میں ملتے ہیں تو ایک دوسرے سے معمولی سا جھک کر گلے لگتے اور ہاتھ چومتے ہیں: العربیہ

کراچی ۔۔۔۔ سعودی حکمراں شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے ہاتھ چومنے پر پابندی لگادی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دست بوسی غلط روایت ہے ماسوائے احتراماً والدین کے کسی کا ہاتھ نہیں چوما جا سکتا۔ لہذا، اس پر پابندی عائد کی جاتی ہے۔ عوام الناس اس غلط روایت کو ترک کردے۔

سعودی عرب میں روایت ہے کہ جب دو لوگ آپس میں ملتے ہیں تو ایک دوسرے سے معمولی سا جھک کر گلے لگتے اور ہاتھ چومتے ہیں۔

شاہ عبداللہ نے اقتدار سنبھالنے کے کچھ ہی دنوں بعد پابندی لگادی تھی کہ بادشاہ کے آگے جھکنا اور اس کے ہاتھ چومنا غلط روایت ہے۔ انہوں نے اپنے وزرا اور کابینہ کے تمام ارکان پر پابندی لگا دی تھی کہ وہ نا تو ان کے ہاتھ چومیں اور نہ ہی جھکیں۔

سعودی ٹی وی چینل العربیہ کے مطابق اب ایک مرتبہ پھر شاہ عبداللہ نے شاہی فرمان کے ذریعے عام لوگوں پر بھی ہاتھ چومنے پر پابندی لگا دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ماسوائے والدین کے کسی کو اس کی اجازت نہیں۔

اسلامی شوریٰ کونسل کے رکن جسٹس عیسیٰ الغایت کا کہنا ہے کہ اسلامی قوانین میں اس طرح کی کوئی روایت موجود نہیں۔ اکثر مذہبی شخصیات کے ہاتھوں کو چومتے دیکھا گیا ہے۔ لیکن، اسلام میں اس کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔

مسجدالحرام مکہ المکرمہ کے سابق امام شیخ عدیل الکلبانو کا کہنا ہے کہ ہاتھ چومنا صوفیائے کرام کی عادت رہا ہے، وہاں سے اسے سعودی معاشرے میں جگہ ملی لیکن ان سے پہلے اس طرح کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔
XS
SM
MD
LG