رسائی کے لنکس

ایران کو رعایت ملی تو سعودی عرب بھی تقاضا کرے گا: شہزادہ ترکی


شہزادہ ترکی الفیصل

شہزادہ ترکی الفیصل

شہزادہ ترکی الفیصل نے کہا کہ وہ اس سے پہلے بھی کئی بار واضح کرچکے ہیں کہ مغربی طاقتیں ایران کو جو رعایت دیں گی، اس کا مطالبہ سعودی عرب بھی کرے گا۔

سعودی عرب کے حکمران خاندان کی ایک اہم شخصیت نے عالمی طاقتوں اور ایران کے درمیان کسی متوقع جوہری سمجھوتے کی مخالفت کرتے ہوئے متنبہ کیا ہے کہ اگر ایٹمی پروگرام پر ایران کو کوئی رعایت ملی تو سعودی عرب بھی اس کا تقاضا کرے گا۔

سعودی انٹیلی جنس کے سابق سربراہ ترکی الفیصل نے پیر کو معاصر نشریاتی ادارے 'بی بی سی' کے ساتھ ایک انٹرویو میں واضح کیا کہ ایران کے جوہری پروگرام پر سمجھوتے کی صورت میں سعودی عرب اور دیگر ملک بھی ایسے ہی معاہدوں کا مطالبہ کریں گے جس کے نتیجے میں دنیا میں ایٹمی ٹیکنالوجی کے حصول کی کوششوں میں اضافہ ہوگا۔

شہزادہ الفیصل نے کہا کہ وہ اس سے پہلے بھی کئی بار واضح کرچکے ہیں کہ مغربی طاقتیں ایران کو جو رعایت دیں گی، ان کا ملک بھی اس کا مطالبہ کرے گا۔

شہزادہ ترکی الفیصل واشنگٹن اور لندن میں سعودی عرب کے سفیر بھی رہ چکے ہیں۔ گو کہ اس وقت ان کے پاس کوئی سرکاری منصب نہیں لیکن اس کے باوجود ان کا شمار سعودی عرب کے حکمران خاندان کی بااثر ترین شخصیات میں ہوتا ہے۔

شہزادہ الفیصل کے بھائی سعود الفیصل اس وقت سعودی عرب کے وزیرِ خارجہ ہیں اور ان کے اس بیان کو کئی حلقے سعودی عرب کے حکمران خاندان کی سوچ کا عکاس قرار دے رہے ہیں۔

انٹرویو میں سعودی شہزادے کا کہنا تھا کہ اگر ایران کو کسی بھی درجے کی یورینیم افزودہ کرنے کی اجازت ملی تو صرف سعودی عرب ہی نہیں بلکہ دنیا کے کئی ملک عالمی طاقتوں سے اس کی اجازت مانگیں گے۔

سعودی عرب اور ایران مشرقِ وسطیٰ میں ایک دوسرے کے سخت حریف ہیں اور گزشتہ کئی دہائیوں سے دونوں ملک خطے کے دیگر ممالک کو اپنے دائرۂ اثر میں لانے کی کوششیں کرتے رہے ہیں۔

سعودی عرب اور خلیج کی دیگر سنی ریاستوں کو اندیشہ ہے کہ عالمی طاقتوں کے ساتھ متوقع جوہری معاہدے کی آڑ میں ایران ایٹم بم تیار کرنے کی مبینہ کوششیں جاری رکھے گا جسے یہ ملک اپنے لیے ایک بڑا خطرہ سمجھتے ہیں۔

ایران اور عالمی طاقتوں کے نمائندہ گروپ 'پی 5+1' کے درمیان گزشتہ کئی برسوں سے تہران کے متنازع جوہری پروگرام پر بات چیت جاری ہے جو اب آخری مراحل میں داخل ہوگئی ہے۔

فریقین رواں ماہ کے اختتام سے قبل کسی عبوری معاہدے پر اتفاقِ رائے کی کوششیں کر رہے ہیں جس میں، سفارت کاروں کے مطابق، بعض سیاسی اختلافات حائل ہیں۔

مغربی طاقتوں کا الزام ہے کہ ایران خفیہ طور پر جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے جسے ایرانی حکومت مسترد کرتی ہے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG