رسائی کے لنکس

سعودی عرب: تیل پر انحصار کم کرنے کا منصوبہ


فائل فوٹو

فائل فوٹو

سعودی عرب کا اصلاحاتی منصوبہ ایسے وقت پیش کیا گیا جب خلیج فارس کے دیگر ممالک کویت، قطر اور متحدہ عرب امارات نے بھی طویل المدتی اقتصادی اصلاحات متعارف کرائی ہیں۔

سعودی عرب نے ایک طویل المدتی منصوبے کا اعلان کیا ہے جس میں ملک کی معیشت کا تیل پر انحصار کم کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ اس منصوبے پر عملدرآمد کے نتیجے میں ملک کی معیشت میں کئی دہائیوں میں پہلی مرتبہ بڑی تبدیلی آ سکتی ہے۔

اقتصادی اصلاحات کا یہ منصوبہ سعودی معیشت کی بحالی کی کوششوں کا حصہ ہے جو خام تیل کی قیمتوں میں غیرمعمولی کمی سے شدید متاثر ہوئی ہے جس کے باعث خام تیل درآمد کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک آمدن کے نئے ذرائع تلاش کرنے پر مجبور ہوا ہے۔

اصلاحات کا مقصد رہائش اور بے روزگاری کے مسائل کا خاتمہ اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ضرورت مند شہریوں کو پانی اور بجلی رعائتی قیمتوں پر دی جائے۔

اس منصوبے میں نجکاری، سبسڈی میں کمی، سعودی تیل کی کمپنی ارامکو کے پانچ فیصد حصص کی فروخت اور شہروں کی ترقی کے لیے دو ارب ڈالر کے فنڈ کا قیام شامل ہیں۔

اس منصوبے کو ’سعودی وژن 2030‘ کا نام دیا گیا ہے اور اسے پیر کو سعودی کابینہ نے منظور کیا تھا۔

شہزادہ محمد بن سلمان نے ٹیلی وژن پر نشر ہونے والے ایک انٹرویو میں کہا کہ ’’میرا خیال ہے کہ 2020 تک اگر تیل بند ہو گیا تو ہم گزارا کر سکیں گے۔‘‘

اس منصوبے پر عملدرآمد میں کئی چیلنج درپیش ہو سکتے ہیں۔ ایسے ملک میں جہاں 70 فیصد آمدن کا ذریعہ تیل ہے، سعودی حکومت نے کئی دہائیوں تک اپنے شہریوں پر بہت پیسہ خرچ کیا ہے جبکہ ان پر ٹیکس نہیں لگائے گئے۔

سعودی عرب کا اصلاحاتی منصوبہ ایسے وقت پیش کیا گیا جب خلیج فارس کے دیگر ممالک کویت، قطر اور متحدہ عرب امارات نے بھی طویل المدتی اقتصادی اصلاحات متعارف کرائی ہیں۔

XS
SM
MD
LG