رسائی کے لنکس

سعودی خواتین کاحقِ رائے دہی تسلیم کیا جانا’ خوش آئند‘ پیش رفت:تجزیہ کار

  • نیلوفرمغل

ایک سعودی خاتون جدہ میں حقہ پیتے ہوئے

ایک سعودی خاتون جدہ میں حقہ پیتے ہوئے

تجزیہ کاروں نے اِس توقع کا اظہار کیا ہے کہ مستقبل میں خواتین کو مزید حقوق دیے جائیں گے، جس میں خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت ملنا اور محرم کے بغیر سفر کرنے کی اجازت ملنا شامل ہے

سعودی عرب میں جہاں مردوں کے مقابلے میں خواتین کے حقوق گنتی کے برابر ہیں، سعودی شاہ نے خواتین کو حقِ رائے دہی کا اعلان اتوار کو جاری کیے گئے ایک فرمان میں کیا۔اِس کا اطلاق 2015ء میں ہونے والے انتخابات پر ہوگا۔

اخبار ’سعودی گزیٹ‘ کی ایڈیٹر اور تجزیہ کار، سمیرا عزیز کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ’خوش آئند‘ہے، تاہم، یہ تجویزبہت پہلے سے زیرِ غورتھی جس کا وعدہ بہت پہلے کیا گیا تھا، ’ جِس پر ابھی عمل درآمد ہوا ہے‘۔

اُنھوں نے کہا کہ یہ اقدام ’عرب اسپرنگ‘ کا نتیجہ نہیں ہے۔ اُنھوں نے اِس امید کا اظہار کیا کہ مستقبل میں خواتین کو مزید حقوق دیے جائیں گے، مثلاً خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت اور محرم کے بغیر سفر کرنے کی اجازت ملنا شامل ہے۔

سعودی عرب میں خواتین کو ووٹ کا حق ملنے اورانتخابات میں حصہ لینےسےباقی دنیا کو کیا پیغام ملتا ہے ،اِس بارے میں سمیرا عزیز کا کہنا تھا کہ اِسی اقدام پر آج امریکہ اور برطانیہ سےبیان جاری ہوئے ہیں جِن میں إِسے خوش آئند قرار دیا گیا ہے۔ اُن کے بقول، ساتھ ہی ، یہ پیغام بھی ملتا ہے کہ دیکھو جاگ جاؤ، دنیا بہت آگے نکل چکی ہے۔ عورت اب تعلیم یافتہ ہے، بہت باشعور ہے۔

دوسری جانب، شکاگو میں ایسٹ ویسٹ سینٹر کےچانسلر وسیع اللہ خان کا کہنا تھا کہ یہ مسلمان دنیا کے لیے ایک مثبت پیغام ہے۔

یہ ایک اچھی خبر ہے کہ ایڈوائزری کونسل میں بھی انتخابات ہوں گے اور اُن میں خواتین بھی حصہ لے سکیں گی۔ مسلمان دنیا کےاکثر ممالک ابھی جدیددور میں داخل نہیں ہوئے، جب کہ باقی دنیا میں مطلق العنان ملوکیت اور آمریت کا دور ختم ہوچکا ہے۔ مگر، اُن کے بقول، ہمارے یہاں ابھی مسئلہ پوری طرح حل نہیں ہوا۔

وسیع اللہ خان نے اِس امید کا اظہار کیا کہ مزیدتبدیلیاں آئیں گی اور سماجی پسماندگی کا یہ سلسلہ ختم ہوگا، مثلاً خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت ہوگی۔ اُن کے الفاظ میں ’صحیح سمت میں چیزیں آگے آرہی ہیں‘۔

آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG