رسائی کے لنکس

عوامی بیداری کی تحریکوں کا سعودی عرب پر اثر

  • محمد الشناوی

عوامی بیداری کی تحریکوں کا سعودی عرب پر اثر

عوامی بیداری کی تحریکوں کا سعودی عرب پر اثر

عرب دنیا میں عوامی بیداری کی تحریکوں کا مطالعہ کرنے والے تجزیہ کاراب یہ سوچنے لگےہیں کہ کیا یہ خلفشار سعودی عرب تک پھیل سکتا ہے ۔ سعودی عرب میں مطلق العنان بادشاہت قائم ہے اور دنیا کا سب سے زیادہ تیل بر آمد کرنے والا یہ ملک امریکہ کا اہم اتحادی ہے۔ وہاں سیاسی اصلاحات کے لیئے آوازیں بلند ہونے لگی ہیں، اور اب عوامی سطح پر مظاہروں کو منظم کرنے کی جو کوششیں ہو رہی ہیں ان کی سعودی عرب میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔

جنوری میں جب عوامی تحریک کے نتیجے میں تیونس کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا، تو ماہرین نے پیش گوئی کی کہ اسی قسم کی بغاوتیں دوسرے عرب ملکوں میں بھی پھیل سکتی ہیں جہاں آمرانہ حکومتیں قائم ہیں۔ جلد ہی مصر، یمن، اردن، لیبیا، اور سعودی عرب کے ساحل کے نزدیک بحرین کے جزیرے میں ہنگامے شروع ہو گئے ۔

لیکن سعودی عرب کے ارد گرد کے علاقے میں ہنگاموں کے باوجود، بہت سے تجزیہ کار وں کا اب بھی یہی خیال ہے کہ سعودی عرب جیسے قدامت پسند معاشرے میں اس قسم کے حالات پیدا نہیں ہو سکتے۔ تاہم، سب لوگ اس رائے سے متفق نہیں ہیں۔ کئی ہزار سعودیوں نے جمعہ ، گیارہ مار چ کو دارالحکومت ریاض میں برہمی کے اظہار کا دن منانے کے لیئے انٹرنیٹ گروپوں کو جواب دیا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ سعودی سلطنت میں بڑے پیمانے پر سیاسی اور سماجی اصلاحات کے لیئے دباؤ ڈالا جائے ۔

اس کے علاوہ، 100 سے زیادہ ممتاز سعودی دانشوروں، سرگرم کارکنوں اور کاروباری شخصیتوں نے گذشتہ مہینے ایک عرضداشت پر دستخط کیئے ہیں جس میں شاہ عبداللہ پر دور رس اصلاحات کے لیئے قانون بنانے، اور ایک آئینی بادشاہت قائم کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ سعود کابلی سعودی اخبار الوطن کے سیاسی مبصر ہیں۔ وہ کہتے ہیں’’سعودی عرب میں اس قسم کی باتیں کہنا اب بھی قبل از وقت ہے ۔ سماجی ماحول ابھی اس قسم کی تبدیلی کے لیئے سازگار نہیں ہے۔ یہ صحیح ہے کہ بعض گروپ برہمی کے اظہار کا دن منانے کی بات کر رہے ہیں، اور کچھ لوگ ان کی حمایت بھی کریں گے، لیکن اس کا تعلق جوش سے ہے، ہوش سے نہیں۔ سعودی عرب میں نوجوانوں کے گروپوں میں بھی ابھی کوئی واضح تصور موجود نہیں ہے۔ اس میں ابھی کچھ وقت لگے گا۔‘‘

کابلی کہتے ہیں کہ سعودی عرب میں عوامی مظاہرے غیر قانونی ہیں۔ سعودی کلچر بہت زیادہ روایتی ہے اور اس میں کھلے عام قانون توڑنے کو بہت برا سمجھا جاتا ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ تبدیلی بتدریج آنی چاہیئے کیوں کہ سعودی عرب میں کوئی سیاسی پارٹیاں یا پارلیمانی نظام موجود نہیں ہے ۔ وہ اصلاحات کے لیئے مکالمے کی ضرورت کو تسلیم کرتے ہیں، لیکن حکومت کی تبدیلی کے مخالف ہیں۔

وہ کہتے ہیں’’ہمیں حکومت میں، اور قیادت میں زیادہ نوجوانوں کو شامل کرنا چاہیئے تا کہ ان کے تصور کو فروغ ملے۔ لوگ آئینی بادشاہت کی باتیں کر رہے ہیں۔ مضبوط پارلیمینٹ کے بغیر اور انتخابات کے بارے میں واقفیت کے بغیر آئینی بادشاہت قائم نہیں ہو سکتی۔ میر ے خیال میں ہمیں اس بارے میں بات چیت کا آغاز کرنا چاہیئے۔‘‘

شاید عرب دنیا میں ہنگاموں کے جواب میں، شاہ عبداللہ نے حال ہی میں 37 ارب ڈالر کے ایک امدادی پیکیج کا اعلان کیا جس میں قرض کی معافی ، اور سرکاری شعبے میں کام کرنے والوں کی تنخواہوں میں 15 فیصد مہنگائی الاؤنس شامل ہے ۔ انھوں نے عنقریب شادی کرنے والوں اور کاروبار شروع کرنے والوں کو بلا سود قرض کی پیشکش بھی کی ہے۔

لیکن سعودی دانشوروں، سرگرم کارکنوں اور کاروباری شخصیات کے لیئے جنھوں نے گذشتہ مہینے بادشاہ کے سامنے عرضداشت پیش کی تھی، مالی امداد کافی نہیں ہے ۔ انھوں نے دور رس سیاسی اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے جس میں سیاسی پارٹیاں قائم کرنے اور شوریٰ کونسل کے انتخاب کا حق بھی شامل ہے ۔ سعودی عرب کی مطلق العنان بادشاہت کے تحت، شوریٰ کونسل قانون ساز ادارہ نہیں بلکہ مشاورتی اسمبلی ہے اور اس کے تمام ارکان کا تقرر بادشاہ کرتے ہیں۔

واشنگٹن میں کارنیگی انڈومنٹ فار انٹرنیشنل پیس کی مارینا اوٹاوے کہتی ہیں کہ جن عرب ملکوں میں عوامی تحریک شروع ہو چکی ہے، سعودی عرب ان سے بہت مختلف ہے۔ انھوں نے پیش گوئی کی ہے کہ وہاں سیاسی اصلاحات کرنا بہت مشکل ہو گا۔’’سعودی عرب میں مشکلات بہت زیادہ ہیں۔ آپ کو یہ کام بالکل شروع سے کرنا پڑے گا اور میرے خیال میں امریکہ کو کچھ پتہ نہیں ہے کہ سعودی عرب میں آج کل جو حالات ہیں، ان میں وہاں جمہوریت لانے کے لیئے کیا کرنا پڑے گا اور تبدیلی کس طرح شروع ہوگی۔ کسی کو یہ بات نہیں معلوم۔‘‘

کوئی نہیں جانتا کہ جو لوگ سعودی عرب میں تبدیلی کے لیئے کوشاں ہیں، وہ اپنی برہمی کے اظہار کادن منعقد کر سکیں گے یا نہیں۔ اگر انھوں نے ایسا کیا، تو سعودی وزارتِ داخلہ نے عہد کیا ہے کہ وہ استحکام برقرار رکھنے کے لیئے تمام ضروری اقدامات کرے گی۔ اور اگر تشدد ہوا، تو اوباما انتظامیہ کے سامنے نئی مشکلات ہوں گی ۔ اس کے لیئے سعودی شاہی گھرانے کے ساتھ اپنے اتحاد اور آزادیٔ تقریر اور پُر امن اجتماع کے حق کےلیئے اپنی حمایت کے درمیان توازن قائم رکھنا آسان نہیں ہوگا۔

XS
SM
MD
LG