رسائی کے لنکس

سابق طالبان کی گھروں کو واپسی

  • شمیم شاہد

جنرل کیانی دیگر فوجی افسران کے ہمراہ

جنرل کیانی دیگر فوجی افسران کے ہمراہ

وادی سوات میں 2009ء میں فوجی کارروائی کے دوران گرفتار کیے گئے 46 طالبان کو فنی تربیت کا ایک کورس مکمل کرنے کے بعد فوج نے اُنھیں اپنے گھروں کو واپس جانے کی اجازت دے دی ہے ۔

سابق طالبان کے اس گروپ کو فوج کے زیرانتظام ”راستون “ نامی مرکز میں یہ تربیت فراہم کی جارہی تھی جس کا مقصد انھیں معاشرے میں فعال کردار ادا کرنے اور روزگار کے وسائل تلاش کرنے میں مدد دینا تھا۔

سوات میں ان نوجوانوں سے منگل کے روز خطاب میں فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے کہا کہ تربیت مکمل کرنے والے افراد کو روزگار کی تلاش میں مدد دی جائے گی جب کہ دلچسپی رکھنے والے نوجوان فوج ، فرنٹیئرکو ر اور پولیس میں بھی شمولیت حاصل کر سکیں گے۔ اُنھوں نے یہ بھی کہا کہ اس مرکز میں تربیت کا عمل جاری رہے گا اور مقامی آبادی کے اعتماد کی مکمل بحالی تک فوج سوات میں موجود رہے گی۔

وادی سوات اور مالاکنڈ ڈویژ ن میں موجود طالبان جنگجوؤں کے خلاف 2009 ء میں کامیاب فوجی کارروائی کے بعد بیشتر علاقوں میں حکومت کی عمل داری بحال ہوگئی تھی تاہم اب بھی دور افتادہ علاقوں میں تشدد کے اکا دکا واقعات ہوتے رہتے ہیں ۔

اس علاقے میں شدت پسند رُجحانات کی حوصلہ شکنی کے لیے حکام نے کئی منصوبے شروع کر رکھے ہیں جن کا مقصد بے روزگار نوجوانوں کو فنی تربیت فراہم کر کے معاشرے کا ایک فعال رکن بننے میں مدد دینا ہے ۔ سوات میں ہی ایک ایسا مخصوص مرکز بھی بنایا گیا ہے کہ جہاں مبینہ طور پر طالبان شدت پسندوں سے خودکش بمبار بننے کی تربیت حاصل کرنے والے نوجوانوں کی اصلاح کی جارہی ہے۔

XS
SM
MD
LG