رسائی کے لنکس

پاکستان میں سرمایہ کاری تنزلی کا شکار ہے: سٹیٹ بینک


مالی سال 2012 ءمیں معاشی ترقی کی شرح 3.7 فیصد رہی، جو مقرہ اہداف سے کم ہے، لیکن گذشتہ مالی سال کے مقابلے میں 0.7 فیصد زیادہ ہے۔ حکومتی قرضہ 129 کھرب روپے

پاکستان کے مرکزی بینک کی جانب سے بدھ کے روز جاری ہونے والی مالی سال 2012 ءکی معاشی جائزہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سرمایہ کاری کی شرح مسلسل چوتھے سال بھی تنزلی کا شکار ہے۔

سال 2012 ءمیں سرمایہ کاری 12.5 فیصد رہی جو بڑے ایشیائی ممالک میں سب سے کم ہے۔ بینک نے اس کی وجہ سکیورٹی کی صورتحال، توانائی کے بحران، منتشر تجارتی پالیسیاں اور انتظامی مسائل کو قرار دیا ہے۔

سٹیٹ بینک نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہےکہ غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ کے لیے شرح سود میں 2.5 فیصد کی کمی بھی کی گئی تھی، لیکن اس کے باوجود ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی واقع ہوئی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مالی سال 2012 ءمیں معاشی ترقی کی شرح 3.7 فیصد رہی جو مقررہ اہداف سے کم ہے، لیکن گذشتہ مالی سال کے مقابلے میں 0.7 فیصد زیادہ ہے۔

بینک نے قومی ترقیاتی پروگرام (جی ڈی پی) میں ترقی کے ہدف میں ناکامی زیریں سندھ میں سیلاب کے نتیجہ میں کپاس کی فصل کی تباہی، ریلوے اور پی آئی اے کے خسارے اور ملازمین کی تنخواہوں میں بھاری اضافے کو قرار دیا ہے۔

سٹیٹ بینک کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہےکہ مالی سال 2012 ءمیں اشیائےخوردنوش کی قیمتیں نسبتاً مستحکم رہیں، جس کی وجہ سے افراط زر کی شرح 11.1 فیصد رہی جو گزشتہ مالی سال کے دوران 12.0 فیصد تھی۔

رپورٹ کے مندرجات میں کہا گہا ہے کہ اس سال بھی بیرونی ممالک سے ترسیلات زر میں اضافہ کی وجہ سے جہاں معاشی ترقی میں بہتری آئی وہاں اکاونٹ ڈیفسٹ کو بھی کم کرنے میں مدد ملی ہے۔

رپورٹ میں صنعتی شعبے کی کارکردگی پر بھی عدم اطمینان کا اظہار کیا گیا ہے۔

اپنی رپورٹ میں مرکزی بینک نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ رواں مالی سال میں تھری جی لائیسنس کی نیلامی اور نیٹو سپلائی لائن کھلنے کی مد میں کولیشن سپورٹ فنڈ کے اجرا سے معاشی صورتحال میں مزید بہتری آئے گی۔

مالی سال 2013 ءمیں مہنگائی کاخدشہ ظاہر کیا گیا ہے جِس کی وجہ عالمی سطح پر خوراک کی قیمتوں میں ممکنہ اضافہ ہے۔

مرکزی بینک نے حکومتی قرضوں میں بھی اضافے کی نشاندہی کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2012 ءمیں 19 کھرب روپے اضافے کے بعد حکومتی قرضہ 129 کھرب روپے تک پہنچ گیا ہے۔
XS
SM
MD
LG