رسائی کے لنکس

’این جی اوز‘ کی نگرانی سے متعلق تفصیلات بتائی جائیں: سپریم کورٹ

  • عشرت سلیم

فائل فوٹو

فائل فوٹو

حکومت کی جانب سے اس اعتراف کے باوجود کہ کچھ مدارس شدت پسندی میں ملوث ہیں ابھی تک ملک میں قائم ہزاروں مدرسوں کی نگرانی کے بارے میں کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہوئی ہے

سپریم کورٹ نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے ملک میں کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیموں کے بارے میں دیے گئے اعداد و شمار پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت عدالت کو آگاہ کرے کہ اس نے ’این جی اوز‘ کی نگرانی کے لیے کیا اقدامات کیے ہیں۔

عدالت نے یہ بات ایک غیر سرکاری تنظیم کے ایک عہدیدار کے خلاف مالی بے ضابطگی کا مقدمہ سنتے ہوئے کہی۔گزشتہ ماہ عدالت نے مقدمے کی سماعت کے دوران وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو حکم دیا تھا کہ وہ اپنے علاقوں میں کام کرنے والی تمام غیر سرکاری تنظیموں، ان کی آمدن کے ذرائع اور عہدیداروں کی تفصیلات فراہم کریں۔

تاہم وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے فراہم کی گئی تفصیلات کو ناکافی قرار دیتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا کہ غیرسرکاری تنظیموں کو ملنے والی امداد کے ممکنہ غلط استعمال کو روکنے کے لیے حکومت نے بظاہر بنیادی اعدادوشمار تک اکٹھے نہیں کیے۔

حالیہ ہفتوں میں وفاقی حکومت نے ملک میں کام کرنے والی عالمی غیر سرکاری تنظیموں کی نگرانی کے عمل کو سخت بنانے کے لیے اقدامات کیے ہیں جن کے تحت اسلام آباد میں بچوں کی فلاح کے لیے کام کرنے والی تنظیم ’سیو دی چلڈرن‘ کا اسلام آباد میں دفتر بند کر دیا گیا تھا، جسے بعد میں کام کی اجازت دے دی گئی تھی۔

ملک میں کام کرنے والی تمام عالمی غیر سرکاری تنظیموں کو ابتدائی طور پر چھ ماہ کے لیے کام جاری رکھنے کی اجازت دی گئی ہے، جبکہ ان کے حکام سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنی نئی رجسٹریشن کا عمل تین ماہ کے اندر مکمل کریں۔

ان کے لیے ایک ضابطہ کار تیار کرنے کے لیے وزیراعظم نواز شریف نے اپنے خصوصی معاون برائے خارجہ اُمور طارق فاطمی کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دے رکھی ہے۔

یہ کمیٹی ملک میں کام کرنے والی عالمی ’این جی اوز‘ کی طرف سے مستقبل میں مقامی قوانین کی پاسداری کو یقینی بنانے اور ان کی نگرانی کا طریقہ کار وضع کرنے کے ساتھ ساتھ اس ضمن میں قانون سازی کے لیے مسودہ بھی تجویز کرے گی۔

تاہم غیر سرکاری تنظیموں کی نمائندوں نے اسلام آباد میں ایک اجلاس کے بعد ایک بیان میں’این جی اوز‘ اور ان میں کام کرنے والے افراد کو حکومت کی طرف سے ہراساں اور بدنام کرنے کی مذمت کی تھی۔

پاکستان سول سوسائٹیز فورم کے تحت ہونے والے اس اجلاس میں کہا گیا تھا کہ غیر سرکاری تنظیمیں ملک میں ترقی اور اقتصادی و سماجی بہتری کے حکومتی ایجنڈے پر کام کر رہی ہیں۔

اگرچہ غیر سرکاری تنظیموں کی سرگرمیوں کے بارے میں سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، مگر حکومت کی جانب سے اس اعتراف کے باوجود کہ کچھ مدارس شدت پسندی میں ملوث ہیں ابھی تک ملک میں قائم ہزاروں مدرسوں کی نگرانی کے بارے میں کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔

XS
SM
MD
LG