رسائی کے لنکس

الیکشن کمیشن ایک با اختیار ادارہ ہے اور ملک میں شفاف انتخابات کے انعقاد کے لئے آئینی حدود میں رہتے ہوئے کوئی بھی اقدام اٹھا سکتا ہے: عدالت عظمیٰ

سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کی طرف سے تیار کردہ نئے نامزدگی فارمز کو درست قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کے لئے انتخابات نہایت اہم ہیں اور اس میں ایک دن کی تاخیر بھی نہیں ہونی چاہئیے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن ایک با اختیار ادارہ ہے اور ملک میں شفاف انتخابات کے انعقاد کے لئے آئینی حدود میں رہتے ہوئے کوئی بھی اقدام اٹھا سکتا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ شفاف اور غیر جانبدار انتخابات کے انعقاد کے لیے الیکشن کمیشن آئین کے آرٹیکل 218 پر سختی سے عمل کرے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ووٹر کو اپنے حلقے کے امیدوار کے بارے میں معلوم ہونا چاہئیے کہ کہیں ان کا منتخب نمائندہ کسی جرم میں تو ملوث نہیں رہا۔

اُنھوں نے اپنی سربراہی میں سہ رکنی بینچ کے ہمراہ انتخابی اصلاحات پرعملدرآمد کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حقیقی نمائندہ وہی ہوتا ہے جسے عوام کی حمایت حاصل ہو۔ کیس کی سماعت کے دوران الیکشن کمیشن کی جانب سے کاغذات نامزدگی کا نیا فارم بھی عدالت میں پیش کیا گیا۔

اس موقع پر اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ تاخیر حکومت نہیں بلکہ الیکشن کمیشن کر رہا ہے اور سینیٹ سفارشات کا بھی الیکشن کمیشن نے ابھی تک جواب نہیں دیا۔

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کو نئے نامزدگی فارم کی چھپائی سے متعلق تمام فریقین کو اعتماد میں لیا جانا چاہیے تھا، جس کا شائع ہونا بھی قانونی طور پر غلط ہے۔

اس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اگر یہ غیر قانونی ہے تو کیا قانونی کارروائی کی گئی؟ صدر نے کارروائی نہیں کی تو اس کا مطلب ہے کہ مسترد نہیں کیا۔

عدالت نے الیکشن کمیشن کی طرف سے تیار کردہ نئے کاغذات نامزدگی کو درست قرار دیتے ہوئے کیس کی سماعت جمعہ تک ملتوی کر دی۔
XS
SM
MD
LG