رسائی کے لنکس

مبینہ طور پر، سہراب گوٹھ، الآصف اسکوئر، جنت گل ٹاوٴن، افغان کیمپ، انٹر سٹی بس ٹرمینل، مچھر کالونی اور گڈاپ میں بڑے بڑے گودام موجود ہیں، جہاں بسوں اور ویگنوں کے ذریعے غیر قانونی اسلحہ ان گوداموں تک پہنچتا ہے: کسٹم حکام


کسٹم حکام نے بدھ کو عدالت عظمیٰ کی سماعت کے دوران کراچی میں غیر قانونی اسلحہ کی رسد کے بارے میں تفصیلات سے آگاہ کیا۔

کراچی میں غیر قانونی اسلحہ سالوں سے ایک سنگین مسئلہ بنا ہوا ہے۔ یہاں تک، کہ سپریم کورٹ کو بھی سب سے زیادہ اسی پر تشویش ہے کہ آخر یہ اسلحہ کس طرح کراچی پہنچتا ہے، اس میں کون لوگ ملوث ہیں اور یہ اسلحہ جاتا کہاں ہے؟

محکمہٴکسٹم کے حکام نے ان تمام سوالات کے جواب دیتے ہوئے، سپریم کورٹ کی کراچی رجسٹری میں جاری کراچی بدامنی کیس کی سماعت کے دوران انکشاف کیا کہ، بقول اُن کے، ٹرانسپورٹرز اور ہوٹل مالکان اسلحہ، منشیات اور دیگر اشیاٴ کی اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔

سپریم کورٹ میں چیف کسٹم کلکٹر محمد یحییٰ نے کسٹم انٹیلی جنس کی تیار کردہ رپورٹ پیش کی، جس میں محکمہٴ کسٹم نے الزام لگایا کہ سہراب گوٹھ، الآصف اسکوئر، جنت گل ٹاوٴن، افغان کیمپ ،انٹر سٹی بس ٹرمینل، مچھر کالونی اور گڈاپ میں بڑے بڑے گودام موجود ہیں۔ بسوں اور ویگنوں کے ذریعے غیر قانونی اسلحہ اور منشیات ان گوداموں تک پہنچتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، ’ یہی وہ علاقے ہیں جہاں طالبان مقیم ہیں‘۔

بتایا جاتا ہے کہ رپورٹ میں مختلف ہوٹل مالکان، جہاں اسلحہ رکھا جاتا ہے، اور کوچ سروسز کے نام تک درج ہیں۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں 5رکنی وسیع تر بنچ نے اس رپورٹ پر اطمینان کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ثبوت کے بغیر قانونی کارروائی بے اثر ہوتی ہے۔ لہذا، رپورٹ کی حمایت میں شہادتیں پیش کرنا بھی ضروری ہے۔

اس پر ایڈووکیٹ جنرل نے بیان دیا کہ تفتیشی افسر اور سرکاری وکلا خوفزدہ ہیں اس لئے سندھ حکومت 200 نئے تفتیشی افسر بھرتی کررہی ہے، اس کے علاوہ مزید 5 خصوصی عدالتوں کے قیام کی درخواستیں بھی دے رکھی ہیں۔

ایک سوال پر چیف کلکٹر یحییٰ خان نے عدالت کو بتایا کہ پولیس اور رینجرز ملزمان کے خلاف مشترکہ کارروائی کے لیے حکمت عملی مرتب کر رہی ہے۔
XS
SM
MD
LG