رسائی کے لنکس

جمعرات کو سپریم کورٹ کی کراچی رجسٹری میں جاری سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کراچی میں قیام امن میں ناکامی پر حکومت اور انتظامیہ پر انتہائی سخت ریمارکس دیے

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ کراچی میں بدامنی اور بے گناہوں کے ناحق خون کی ذمے دار وفاقی اور صوبائی حکومتیں ہیں۔ انہوں نے آئی جی سندھ اور چیف سیکریٹری کی کراچی سے متعلق پیش کردہ رپورٹس کو بھی یکسر مسترد کر دیا۔

جمعرات کو سپریم کورٹ کی کراچی رجسٹری میں جاری سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کراچی میں قیام امن میں ناکامی پر حکومت اور انتظامیہ پر انتہائی سخت ریمارکس دیے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ سماعتوں میں پولیس اور رینجرز کراچی میں ’نوگو ایریاز‘ کی موجودگی سے انکار کرتی رہی ہے۔ لیکن، آج کی رپورٹ میں ’نوگو ایریاز‘ ہونے کی تصدیق کی جارہی ہے، اگر پہلے ہی ’نوگو ایریاز‘ ختم کردیے جاتے تو آج صورتحال مختلف ہوتی۔

سپریم کورٹ کا پانچ رکنی لارجر بنچ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری، جسٹس جواد ایس خواجہ، جسٹس عظمت سعید شیخ، جسٹس گلزار احمد اور جسٹس اطہر سعید پر مشتمل تھا۔ سماعت کا آج دوسرا روز تھا۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے یہ ریمارکس بھی دیے کہ کراچی میں سپریم کورٹ بینچ کے آتے ہی سیاست شروع ہوگئی، اچانک حکام حرکت میں آگئے اور بڑی بڑی پریس کانفرنسیں کر ڈالیں۔

چیف جسٹس کا یہ بھی کہنا تھا کہ کراچی میں اسلحہ آسمان سے نہیں گر رہا۔ آج شہر کی صورتحال وہی ہے جو دو سال پہلے چھوڑ کر گئے تھے۔ ان دو سالوں میں جو بھی خون بہا ہے اس کی ذمے دار وفاقی اور صوبائی حکومتیں ہیں۔ کراچی اور بلوچستان میں جرائم پیشہ افراد کے پاس شاید فورسز سے بھی جدید اسلحہ ہے۔ کراچی سے اسلحے کے کنٹینرز غائب ہوجاتے ہیں، انٹیلی جنس کہاں ہوتی ہے؟

سماعت کے دوران، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اس قدر جدید غیر ملکی ہتھیار کراچی اور بلوچستان کس طرح پہنچ جاتا ہے؟ کسی کو کانوں کان خبر کیوں نہیں ہوتی؟ اس پر ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے اعتراف کیا کہ کراچی میں استعمال ہونے والا اسلحہ انتہائی جدید ہے جو مقامی طور پر تیار نہیں ہوسکتا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آئی ایس آئی، ایم آئی، آئی بی سمیت سب اس قانون شکنی کے ذمے دار ہیں، اسلحہ پورٹ سے نکلتا ہے کچھ بلوچستان جاتا ہے باقی کراچی میں جرائم میں استعمال ہوتا ہے۔

لارجر بینچ کا کہنا تھا کہ کراچی کا سب سے بڑا مسئلہ اسلحہ ہے۔ یہ شہر ملک کو 70 فیصد ریونیو دیتا ہے اور سب کو نوالہ کھلاتا ہے، یہاں کے شہریوں کے جان ومال کا تحفظ وفاقی وصوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے۔

سماعت کے دوران ڈی آئی جی ساوٴتھ امیر شیخ نے لیاری کے حوالے سے بیان دیا کہ وہ موجودہ حالات میں بہتر نتائج نہیں دے سکتے، پولیس جرائم پیشہ افراد کے پیچھے جاتی ہے تو خواتین اور بچے سامنے آجاتے ہیں، پولیس افسران خوف زدہ ہیں، 1992کے آپریشن میں جن اہلکاروں نے حصہ لیا تھا ان سب کو ایک ایک کرکے قتل کردیا گیا۔ سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کو پکڑتے ہیں تو مسلح افراد جلاوٴ گھیراوٴ شروع کردیتے ہیں۔

اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ لیاری کوئی سومناتھ کا مندر نہیں کہ فتح نہیں ہو سکتا۔ آپ بہادری سے کام کریں، اگر کوئی رکاوٹ ہے تو عدالت کو بتائیں۔ آپ سمیت کسی پولیس افسر نے سپریم کورٹ کو کوئی لیٹر نہیں لکھا کہ اسے کام کرنے کی بنیاد پر ہٹایا گیا۔

چیف جسٹس نے آئی جی سندھ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کچھ نہیں کرسکتے تو بتادیں، ہم وفاق کو کہتے ہیں اچھے افسران سندھ بھی بھیج دیں۔ آئی جی سندھ خود مصلحت کا شکار ہیں اور سسٹم کو بدنام کررہے ہیں۔

سماعت آٹھ گھنٹے تک جاری رہنے کے بعد جمعہ تک کے لئے ملتوی کردی گئی۔
XS
SM
MD
LG