رسائی کے لنکس

سندھ ٹرانسپورٹ ڈپارٹمنٹ نے پابندی عائد کی تھی کہ اسکول وینوں میں سی این جی اور ایل پی جی سلینڈر استعمال نہیں ہو سکیں گے۔ اسکول وین اور بسوں پر پیلا رنگ کرانا لازمی ہوگا۔ وین میں بچوں کی دیکھ بھال کے لئے اٹینڈنٹ کی موجودگی لازمی ہوگی

پاکستان کے مختلف شہروں میں سی این جی سے چلنے والی گاڑیوں میں نصب سیلینڈر پھٹنے کے واقعات میں اضافے کے سبب ایسی گاڑیوں کو ’چلتے پھرتے بمبوں‘ سے تشبہہ دی جاتی ہے۔ نوابشاہ اور گجرانوالہ میں ہونے والے حادثات گواہ ہیں کہ اسکول وین میں لگے سلینڈر پھٹنے سے متعدد بچے لقمہ اجل بن گئے تھے۔

معصوم بچوں کو ایسے حادثات سے یقینی طور پر محفوظ رکھنے کے لئے گذشتہ ہفتے سندھ ٹرانسپورٹ ڈپارٹمنٹ نے اسکول وین ڈرائیوروں کے لئے کچھ نئے قانون وضع کئے تھے۔ لیکن، جمعہ کو پرائیوٹ اسکول وین ڈرائیوروں کی جانب سے ہونے والی ہڑتال اور احتجاج کے بعد اس معاملے میں نرمی پرتے جانے پر ان قوانین کے مستقبل پر کئی سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔

سندھ ٹرانسپورٹ ڈپارٹمنٹ نے پابندی عائد کی تھی کہ اسکول وینز میں سی این جی اور ایل پی جی سلینڈر استعمال نہیں ہو سکیں گے۔ اسکول وین اور بسوں پر پیلا رنگ کرانا لازمی ہوگا۔ وینز میں بچوں کی دیکھ بھال کے لئے اٹینڈنٹ کی موجودگی لازمی ہوگی۔

علاوہ ازیں، آگ بجھانے کے آلات ہونا بھی ضروری قرار دیا گیا، جبکہ ایمرجنسی دروازہ، اسکول وین میں گنجائش سے زیادہ سیٹیں نصب نہ کرنا، اسکول اور کالج انتظامیہ کا تمام ٹرانسپورٹ کا ریکارڈ رکھنا، تھرڈ پارٹی کی تصدیق کے بغیر وین آپریٹروں کے فٹنس سرٹیفیکٹ کی تجدید نہ کرنا، تمام اسکول وینوں اور بسوں میں شکایتی کتاب رکھنا، بچوں کی موجودگی میں کسی گیس یا فیول اسٹیشن پر نہ رکنا، کسی حادثے کی صورت میں اسکول انتظامیہ اور وین مالکان کو ذمہ دار قرار دیا جانا بھی قانوناً ضروری اور لازمی قرار دیا گیا تھا۔

اسکول وین ڈرائیوروں نے سندھ ٹرانسپورٹ ڈپارٹمنٹ کے جاری کردہ اس اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر (ایس او پی) کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے بچوں کو اسکول لانے لے جانے سے انکار کر دیا تھا، جس کی وجہ سے والدین اور بچوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔

جمعہ کو اسکول وین مالکان پریس کلب پر احتجاج کے بعد گورنر ہاؤس پہنچے اور شاہراہ فیصل پر احتجاج کیا، جبکہ آل پرائیوٹ اسکول وین سروس ایسوسی ایشن کے وفد نے ڈی آئی جی ٹریفک سے مذاکرات بھی کئے جس میں اسکول وینز پر پیلا رنگ کرانے کی شرط ختم کردی گئی۔ تاہم، اسکول وینز سے سی این جی سلینڈر نکالنے کے بارے میں مذاکرات بعد میں ہوں گے۔

مذاکرات میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ گاڑیوں پر ’اسکول وین‘ لکھنا ہوگا اور بچوں کو ’سیٹ بائی سیٹ‘ سفر کرایا جائے گا، جبکہ اسکول وینوں کے دروازوں کو بھی لاک نہیں کیا جائے گا۔

آل پرائیوٹ اسکول وین سروس ایسوسی ایشن کے صدر عبدالکریم نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہتے ہیں ’ہمیں احساس ہے کہ ہڑتال اور احتجاج کے فیصلے سے والدین کو تکلیف ہوگی۔ ہم ہڑتال جیسے انتہائی قدم پر معذرت خواہ بھی ہیں لیکن ہمارے پاس اپنے مسئلے کی جانب سندھ حکومت کی توجہ مبذول کرانے کے لئے اور کوئی چارہ نہیں تھا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسکول وین ڈرائیور اس وقت ایل پی جی اور سی این جی سلینڈر گاڑیوں سے ہٹائیں گے جب کراچی میں چلنے والی دیگر پرائیوٹ اور کمرشل گاڑیوں پر بھی اس قانون کا اطلاق کرتے ہوئے سلنڈرز نکلوا دئیے جائیں۔ حکومت نے ’ایس او پی‘ بناتے وقت اسکول وین مالکان کو اعتماد میں نہیں لیا۔

ڈی آئی جی ٹریفک عامر احمد شیخ کے مطابق، پرائیوٹ اسکولز کی درخواست پر ’ایس او پی‘ کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاوٴن 4ستمبر تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔

XS
SM
MD
LG