رسائی کے لنکس

سائنس اور آزاد جمہوریت کے نظریے پر ٹیموتھی فیرس کی نئی کتاب

  • فایزہ المصری

سائنس اور آزاد جمہوریت کے نظریے پر ٹیموتھی فیرس کی نئی کتاب

سائنس اور آزاد جمہوریت کے نظریے پر ٹیموتھی فیرس کی نئی کتاب

سائنس اور جمہوریت کے درمیان باہمی مفاد کا ایک گہرا تعلق موجود ہے۔ ٹیموتھی فیرس نے اپنی نئی کتاب ’ The Science of Liberty‘ میں لکھا ہے کہ سائنس ان معاشروں میں فروغ پاتی ہے جہاں آزادانہ تحقیق کے حق کا تحفظ کیا جاتا ہے اور یہی آزاد جمہوریتوں کے پھلنے پھولنے کی سب سے بڑی وجہ ہے۔

یہ سمجھنا اہم ہے کہ ٹیموتھی فیرس جب سائنس کی بات کرتے ہیں تو وہ اس سے کیا مراد لیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنی کتاب میں سائنس کو انہی معنوں میں استعمال کیا ہے جن معنوں میں بعض اوقات ہم ماڈرن سائنس کو استعمال کرتے ہیں جو ایک ایسا سماجی ادارہ ہے جس میں پیشہ ور سائنس دان، لیبارٹریاں، یونیورسٹیوں کے مختلف شعبے، سائنسی جریدے وغیرہ موجود ہوتے ہیں۔ یہی وہ سماجی ڈھانچہ ہے جس نے دنیا کو سائنسی طورپر تبدیل کردیا ہے۔

فیرس جس چیز کو لبرل ازم کہتے ہیں ، اس نے دنیا کو سیاسی طورپر تبدیل کردیاہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ ایک آزاد سیاسی فلسفہ ہے جس کا قدامت پسندوں یا ترقی پسندوں سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ لبرل ازم سےمیری مراد صحیح معنوں میں آزادی ہے۔ یہ وہی فلسفہ ہے جو امریکہ کا انسانی حقوق کا قانون ، برطانیہ کا انسانی حقو ق کا قانون اور دنیا بھر کی دوسری دستاویزات اور ان آئینی دستاویزات میں موجود ہے جن میں لوگوں کو ان کو ان کے بنیادی انسانی حقوق کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ چنانچہ لبرل ڈیموکریسی کی اصطلاح سے صحیح معنوں میں مراد ایک ایسی جمہوریت ہے جہاں لوگ انسانی حقوق کے سوا ہر چیز کو ووٹ کے ذریعے تبدیل کرسکتے ہوں۔

آزاد جمہورتیوں میں لچک کی خصوصیت کو ٹیموتھی سائنسی طریقے کے مماثل قرار دیتے ہیں، یعنی تجربے کرنا، نظریات کو پرکھنا ، غیر مفید نظریات کو مسترد کرنا اور فائدہ مند نظریات کو آگے بڑھانا۔

وہ کہتے ہیں کہ آزاد جمہوری حکومتیں مسلسل جاری تجربات کی ایک شکل ہیں اور امریکہ کے بانیوں نے اکثر اوقات اس کے بارے میں بات کی ہے۔ جمہوریتوں کے اتنے طویل عرصے تک برقرار رہنے کی ایک وجہ یہ ہے کہ وہ مسلسل خود میں تبدیلیاں لارہی ہیں۔ وہ اپنی قیادت اور اپنے قوانین کو تبدیل کررہی ہیں۔ وہ مسلسل تجربے کررہی ہیں اور بہتری کے طریقے تلاش کررہی ہیں۔

اپنی کتاب میں فیرس لکھتے ہیں کہ آزاد جمہوریت کی اس تجرباتی نوعیت کو 1780 کی دہائی کے فرانسیسی انقلاب میں غلط طورپر پیش کیا گیاتھا۔

وہ کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ فرانسیسیوں کے لیے اصل مسئلہ یہ تھا کہ وہ اپنی شاندار فلسفیانہ روایت کی وجہ سے یہ سمجھتے تھے کہ انقلاب کے نتیجے میں ایک کامل معاشرہ وجود میں آئے گا اور ان کے ذہن میں یہ بات نہیں تھی کہ انقلاب ایک مسلسل جاری تجربے کا نام ہے۔اور یہی وجہ تھی کہ اس کے نتیجے میں مدتوں تک انسانی مصائب سامنے آئے ۔ نازیوں اور کمیونسٹوں نے بعد میں اسی غلطی کو دوہرایا۔ اس لیے میں نے اپنی کتاب میں ان دونوں انقلابوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ اگر آپ کسی حکومت کو سائنسی بنیادوں پر استوار کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو اسے تجرباتی بنانا ہوگا۔

ٹیموتھی کہتے ہیں اسلام پسند انتہاپسندی اسی قسم کی سائنس مخالف ، غیر آزاد روایت کی ایک قسم ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ بہت سی اسلامی انتہا پسند تحریکوں کی ابتدا 20 ویں صدی کی پہلی سہ ماہی میں پیرس جیسی جگہوں سے ہوئی۔ انہیں وہاں وہی فلسفہ ملا جو فرانسیسی انقلاب کے نتیجے میں سامنے آیا تھا۔ مثال کے طورپرفلاسفر روسو نے بائبل کے باغ عدن کی قسم کا ایک نظریہ پیش کیاتھا۔ جس پر ابھی تک لوگوں کی ایک بڑی تعداد یقین رکھتی ہے۔ ان کا نظریہ یہ تھا کہ یہ پوری دنیا کسی زمانے میں بہت شاندار تھی ۔ پھر تہذیب نے اس کا حسن ملیا میٹ کردیا۔ اور اب ہمیں اسی باغ کی طرف واپس جانا ہے۔ بدقسمتی سے اسلامی انتہا پسندی کا بیشتر حصہ ایسے ہی نظریات پر مبنی ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ کوئی بھی سمجھدار شخص اس طرح کے نظریات کو قبول نہیں کرتا۔ اس لیے جس طرح فاشسٹ کبھی بھی کسی بھی جگہ کسی بھی حقیقی انتخاب کو جیتنے میں کامیاب نہیں ہوئے ، اسی طرح اسلامی انتہا پسندوں کو بھی کہیں بھی ایسی کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوسکتی۔ وہ کالجوں کے طالب علموں اور ان مایوس نوجوانوں کو اپنا آلہ کار بناتے ہیں ، جنہیں وہ بھرتی کرسکتے ہیں۔ یہ ایک ناخوشگوار بات ہے لیکن ہم دنیا میں ایسا پہلے بھی کئی بار ہوتا دیکھ چکے ہیں۔

فیرس کہتے ہیں کہ آج دنیا میں ہر بڑا سائنسی طورپر ترقی یافتہ ملک ایک جمہوری ملک اس لیے ہے کیونکہ وہاں کا سیاسی ماحول سائنسی تحقیق کو پھلنے پھولنے کا موقع فراہم کرتا ہے اور اس کے نتیجے میں سامنے آنے والی سائنسی ایجادات اور اختراعات کو آزاد معاشروں کو علم ، دولت اور طاقت سے نوازتی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ صحیح اجزا کے ساتھ سائنس دوسرے ملکوں میں بھی مثبت تبدیلی کا ایک ذریعہ بن سکتی ہے۔

ٹیموتھی فیرس کہتے ہیں کہ مجھے امید ہے کہ میری کتاب سے دنیا کے سبھی ملکوں میں میرے دوستوں پر یہ واضح ہوجائے گا کہ اگر آپ کے سامنے کوئی واضح راستہ موجود ہے ، اگر آپ جانتے ہیں کہ آپ کا ملک درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے تو غالباً آپ کے لیے سائنس کی طرف جانے کا ایک موقع موجود ہے۔ آپ اپنی ایجادات کسی دوسرے ملک سے سن کر نہیں بلکہ خود کرسکتے ہیں۔ اور ایسا کرنے کے لیے آپ کو تین چیزوں کا خیال رکھنا پڑے گا۔ آپ کے لیے ضروری ہے کہ آپ کے ملک میں ہر شخص کی آمدنی لگ بھگ چھ ہزار ڈالر ہو۔ اور بہت سے ایسے ملک ہیں جہاں ابھی تک جمہوریت نہیں ہے لیکن ان کی فی کس آمدنی کی شرح یہی ہے۔ دوسری چیزیہ ہے کہ آپ کے ملک میں ایک مناسب درجے تک تعلیم موجود ہو اور تیسری بات یہ کہ آپ کو ایک سیکولر جمہوری حکومت میسر ہو۔

ٹیموتھی فیرس کہتے ہیں کہ وہ مستقبل کے بارے میں پرامید ہیں کیونکہ دنیا کی 45 فی صد آبادی آزاد جمہوری ملکوں میں رہتی ہے جہاں سائنس کے پھلنے پھولنے کے لیےساز گار ماحول میسر ہے۔

XS
SM
MD
LG