رسائی کے لنکس

روشنی پیدا کرنے والے پودوں کا تصور نیا نہیں۔ اسی کی دہائی میں بھی سائنسدانوں نے روشنی پیدا کرنے والے پودوں پر کام کیا تھا اور وہ یہ پودے اگانے میں کامیاب بھی ہو گئے تھے۔

آپ کو یہ خیال یقینا منفرد لگا ہوگا۔ لیکن کیلی فورنیا سے تعلق رکھنے والے سائنسدانوں کا ایک گروپ اسی حوالے سے کام کر رہا ہے۔ یہ سائنسدان چاہتے ہیں کہ روشنی کے ایسے پودے اگائے جائیں جنہیں سٹریٹس لائیٹس یا پھر لیمپ میں روشنی کے مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکے۔ انہی سائنسدانوں میں سے ایک نے اپنی ویب سائیٹ پر لکھا ہے کہ، ’ہم حیاتیات میں مصنوعی طریقے استعمال اور قدرتی روشنی کی مدد سے ایسے پودے اگا سکتے ہیں جنہیں ہم بالآخر اپنی روزمرہ کی زندگی میں بجلی کے ذرائع کے طور پر استعمال کر سکیں۔‘

اس عمل میں زرعی حیاتیات کی تکنیک استعمال کی جاتی ہے۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ پھولوں پر آنے والے پتنگوں سے حاصل کیے گئے ڈی این اے کو ایک خاص قسم کے ’بیکٹیریا‘ یا جرثومے میں ڈالا جاتا ہے۔ بعد میں اس بیکٹیریے کو مصنوعی طریقے سے روشنی پیدا کرنے والے پودے میں منتقل کیا جاتا ہے۔

روشنی پیدا کرنے والے پودوں کا تصور نیا نہیں۔ اسی کی دہائی میں بھی سائنسدانوں نے روشنی پیدا کرنے والے پودوں پر کام کیا تھا اور وہ یہ پودے اگانے میں کامیاب بھی ہو گئے تھے۔ لیکن اس سائنسی عمل کے لیے روشنی پیدا کرنے والا مادہ ’لوسی فیرن‘ ضروری ہوتا ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ایسے پودے بنانے میں جو زیادہ روشنی پیدا کرتے ہوں، ابھی وقت لگے گا۔ ان کے مطابق، ’ہم چاہتے ہیں کہ ایسے پودے حاصل کریں جنہیں اندھیرے میں بآسانی دیکھا جا سکے لیکن آپ یہ نہیں سوچ سکتے کہ یہ پودے آپ کے بلب کی جگہ لے سکتے ہیں۔‘ سائنسدانوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس حوالے سے سائنسی تحقیق کے لیے جتنے فنڈز اکٹھے کیے جائیں گے اور جتنا کام کیا جائے گا، اتنی ہی کامیابی حاصل کرنا ممکن ہوگی۔
XS
SM
MD
LG