رسائی کے لنکس

ایک نئی تحقیق سے منسلک سائنس دانوں نے پتا لگایا ہے کہ کسی شخص کو سردی سے ٹھٹھرتے دیکھ کر ہمارے اندر بھی سردی کا احساس پیدا ہوتا ہے۔

اس بات سے ہم سب واقف ہیں کہ دوسروں کو ٹھنڈ میں کپکپاتا ہوا دیکھنے سے ہم پر بھی سردی سے کپکپی طاری ہونے لگتی ہے۔ اس کے باوجود کہ اس وقت ہم خود اس سردی کا تجربہ نہیں کر رہے ہوتے، ہم دوسروں کے ٹھنڈ کے احساس کو محسوس کر لیتے ہیں۔ لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ اس طرح جاڑا محسوس کرنا چھوت کا مرض بھی ہو سکتا ہے؟

ایک نئی تحقیق سے منسلک سائنس دانوں نے پتا لگایا ہے کہ کسی شخص کو سردی سے ٹھٹھرتے دیکھ کر ہمارے اندر بھی سردی کا احساس پیدا ہوتا ہے۔

سائنسی رسالے 'پلوس ون ' میں شائع ہونے والے مطالعے میں محققین نےپتا لگایا ہے کہ سردی محسوس کرنا متعدی ہے کیونکہ کسی دوسرے شخص کو سردی میں کانپتا ہوا دیکھ لینا ہمیں سردی محسوس کرانے کے لیے کافی ہوتا ہے۔

برطانوی محققین کا کہنا ہے کہ ہم دوسروں کی ٹھنڈ کے احساس کو جسمانی طور پر بھی محسوس کرتے ہیں اور اس وقت ہمارے جسم کا درجہ حرارت بھی کم ہو جاتا ہے۔

ایک تجربے کے دوران رضا کاروں کے - جنھوں نے ایک ویڈیو میں اداکاروں کو ٹھنڈے یخ پانی میں انگلیاں ڈالتے ہوئے دیکھا تھا، جسمانی درجہ حرارت میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔

برطانوی یونیورسٹی 'برائٹن اینڈ سسیکس میڈیکل اسکول' سے منسلک محقق نیل ہیرسن کے بقول ہمارے اندر دوسروں کے لیے ہمدردی کا احساس پیدا کرنے کی ایک وجہ دوسروں کا عجیب وغریب رویہ بھی ہوسکتا ہے جو ہمیں ان کے ساتھ ہمدردی کرنے کی طرف مائل کرتا ہے۔

تجربے میں شامل 36 رضاکاروں میں سے ہر ایک کوآٹھ ویڈیو کلپس دکھائی گئیں جن میں اداکاروں نے گرم یا ٹھنڈے پانی میں انگلیاں ڈال رکھی تھیں۔ ٹھیک اسی وقت شرکا کے ہاتھ کا درجہ حرارت بھی ناپا گیا۔

نتیجے سے انکشاف ہوا کہ سردی والی ویڈیوز دیکھ کران کے ہاتھ اچھے خاصے ٹھنڈے ہو گئے۔

تاہم ویڈیو میں لوگوں کوگرمی برداشت کرتے ہوئے دیکھ کر رضا کاروں کے جسمانی درجہ حررات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی۔

تحقیق کی قیادت کرنے والے ڈاکٹر نیل ہیرسن نے کہا کہ نتیجہ ظاہرکرتا ہے کہ انسان کسی دوسرے کی سردی کو محسوس کرنے کے معاملےمیں زیادہ حساس ہے۔

سائنس دانوں نے حقیق کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ شاید اس نتیجے کی وجہ یہ تھی کہ گرم پانی کی ویڈیوز میں رضاکاروں نے صرف گرم پانی میں سے بھاپ اٹھتے ہوئے دیکھی تھی۔ لیکن ٹھنڈے برف کے پانی میں ہاتھ ڈالنے والے اداکاروں کے ہاتھ واضح طور پر گہرے گلابی دکھائی دے رہے تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ ایسے سائنسی شواہد موجود ہیں جن کی روشنی میں کہا جاسکتا ہے کہ لوگ گرمی کے مقابلے میں دوسروں کو سردی میں کانپتا ہوا دیکھنے کا زیادہ اثر قبول کرتے ہیں۔

ماہر نفسیات ڈاکٹر ہیرسن کے مطابق انسان ایک سماجی مخلوق ہے اور اس قسم کی لاشعوری جسمانی تبدیلیاں ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ کمیونٹی میں مل جل کر کام کرنے اور ایک دوسرے کے بارے میں ہمدردی کے جذبات پیدا کرنے میں مدد کرتی ہیں۔

بقول ڈاکٹر ہیرسن کسی کی نقل اتارنے سے اس کے اندرونی احساسات کا خاکہ بنانے میں مدد ملتی ہے جسے ہم ان کی منشا اور ان کے احساسات جاننے کے لیے استعمال کرسکتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG