رسائی کے لنکس

حکومتوں کوسائنسدانوں کی بات ماننا پڑے گی، پروفیسر طور


واشنگٹن ڈی سی میں سائنس دانوں کا مظاہرہ- 22 اپریل 2017

پروفیسر طور کے بقول اس مارچ کا اثر ضرور ہو گا اور امریکہ جہاں سول سوسائٹی بہت مضبوط ہے، وہ بھی سائنسدانوں کے ساتھ کھڑی نظر آئے گی۔

امریکہ کے دارلحکومت واشنگٹن سمیت دنیا کے چھ سو شہروں میں سائنسدانوں نے مارچ کیا ہے اور حکومتوں کو باور کرایا ہے کہ وہ ماحولیاتی تغیر سمیت ان تمام مسائل پر توجہ دیں جس کے بارے میں سائنسدان متنبہہ کر رہے ہیں۔

پاکستان میں قائداعظم یونیورسٹی میں فزکس کے ایسوسی ایٹ پروفیسر اے ایچ طور نے کہا کہ ہے کہ افسوس کی بات ہے کہ سائنسدانوں کو لیبارٹریوں سے نکل کر اپنی بات کی اہمیت کے لیے آواز بلند کرنا پڑ رہی ہے تاہم ان کا کہنا تھا دوسری جنگ عظیم کے بعد سے سائنسدانوں نے اپنی رائے واضح کرنے کے مہم شروع کر دی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ صرف سیاسی قیادتیں سائنس دانوں کے ان باتوں پر کم توجہ دیتی ہیں جن سے ملکوں خاص طور پر ترقی یافتہ دنیا کے معاشی مفاد متاثر ہوتے ہیں۔

پروفیسر طور کے بقول اس مارچ کا اثر ضرور ہو گا اور امریکہ جہاں سول سوسائٹی بہت مضبوط ہے، وہ بھی سائنسدانوں کے ساتھ کھڑی نظر آئے گی۔

اس طرح امریکہ اور دیگر دنیا کی قیادت ضرور ماحولیات اوراس کرہ ارض کے جن عوامل سے خطرات لاحق ہیں، اس پر نظر ضرور توجہ دیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی سائنسدان بھی اس مارچ کی انفرادی سطح پر حمایت کرتے ہیں تاہم ملک میں سائنسدان تنظیمی سطح پر فعال نہیں ہیں تو ایسا کوئی مارچ پاکستان میں نہیں ہو رہا۔

مزید تفصیل اس آڈیو انٹرویو میں

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG