رسائی کے لنکس

محکمہٴخارجہ کی جانب سے منگل کو جاری کیے گئے انتباہ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں امریکی شہریوں کو متعدد غیرملکی اور داخلی دہشت گرد گروہوں سے خطرہ لاحق ہو سکتا ہے

امریکی محکمہٴخارجہ نے امریکی شہریوں کو پاکستان کا ’غیر ضروری سفر‘ مؤخر کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

سفر سے متعلق یہ انتباہ آٹھ اگست، 2014ء کی جگہ لے گا، جس میں امریکی شہریوں کو پاکستان میں سلامتی سے متعلق تشویش سے آگاہ کیا گیا تھا۔

اسلام آباد میں امریکی سفارت خانہ اور کراچی میں امریکی قونصل جنرل پاکستان میں تمام امریکی شہریوں کو قونصل خانے کی خدمات فراہم کرتے ہیں۔ تاہم، پشاور میں امریکی قونصل جنرل کا دفتر اِن دِنوں قونصل خانے کی خدمات انجام نہیں دے رہا، جب کہ لاہور کا امریکی قونصل خانہ عارضی طور پر بند ہے۔

منگل کو جاری ہونے والے ایک اخباری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں امریکی شہریوں کو متعدد غیرملکی اور داخلی دہشت گرد گروہوں سے خطرہ لاحق ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ملک بھر میں سویلین، سرکاری اور غیر ملکی اہداف کے خلاف اکثر و بیشتر دہشت گرد حملے ہوتے رہے ہیں۔

اِن حملوں میں، انتہائی سکیورٹی والے مقامات پر مسلح حملے شامل ہیں، جن میں پاکستانی فوجی تنصیبات اور ہوائی اڈے شامل ہیں۔ حکومت پاکستان نے سخت قسم کے سکیورٹی اقدامات کیے ہوئے ہیں، خاص طور پر اہم شہروں میں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ لاحق خطرے کی اطلاعات سے پتا چلتا ہے کہ دہشت گرد گروپ اُن مقامات پر حملہ کر سکتے ہیں جہاں امریکی شہری موجود یا اکٹھےہوں۔

دہشت گرد اور جرائم پیشہ گروہ اغوا برائے تاوان میں ملوث رہے ہیں۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکہ کے خلاف احتجاجی مظاہرے کوئی غیر معمولی بات نہیں رہی، جو کبھی بھی پُرتشدد رُخ اختیار کر سکتے ہیں۔ امریکی شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ تمام احتجاجی مظاہروں اور بڑے اجتماعات میں شرکت سے گریز کیا جائے۔

XS
SM
MD
LG