رسائی کے لنکس

کالعدم تنظیموں کے خلاف پاکستان کی کارروائی، امریکہ کا خیر مقدم


میری ہارف

میری ہارف

ترجمان نے کہا کہ وزیر خارجہ جان کیری کے حالیہ دورہٴپاکستان کے دوران انسداد دہشت گردی سے متعلق پاکستانی حکام، جن میں وزیر اعظم نواز شریف اور فوج کے سربراہ جنرل راحیل شامل ہیں، سے ملاقاتیں کیں اور ’وسیع تر‘ امور پر گفتگو کی

امریکی محکمہٴخارجہ نے اِن رپورٹس کا خیرمقدم کیا ہے جن میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان حقانی نیٹ ورک سمیت 11 یا 12 تنظیموں کو کالعدم قرار دینے کا اقدام کر رہا ہے۔

جمعرات کو اخباری بریفنگ میں ایک سوال پر، معاون خاتون ترجمان، میری ہارف نے کہا کہ ’یہ ایک اہم قدم ہے، جس کا ہم خیرمقدم کرتے ہیں‘۔

امریکہ پہلے ہی، کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سرغنے ملا فضل اللہ کو عالمی دہشت گرد قرار دے چکا ہے۔

دسمبر میں شدت پسندوں کی طرف سےپشاور کےآرمی پبلک اسکول پر حملے کے بعد، جِس میں 150 کے قریب بے گناہ بچے اور اساتذہ کا بہیمانہ قتل ہوا، حکومت اور حزب اختلاف کی تمام جماعتوں نے شدت پسندوں کے خلاف ایک وسیع تر ’قومی ایکشن پلان‘ کی منظوری دی، جِس پہ عمل درآمد جاری ہے۔

ترجمان نے کہا کہ وزیر خارجہ جان کیری کے حالیہ دورہٴپاکستان کے دوران انسداد دہشت گردی سے متعلق پاکستانی حکام، جن میں وزیر اعظم نواز شریف اور فوج کے سربراہ جنرل راحیل شامل ہیں، سے ملاقاتیں کیں اور ’وسیع تر‘ امور پر گفتگو کی۔

اُنھوں نے کہا کہ دورے سے قبل یا اِس کے دوران، پاکستان نے 12 کے قریب شدت پسندتنظیموں کو کالعدم قرار دینے کا اعلان کیا۔

ایک اور سوال کے جواب میں، ترجمان نے کہا کہ انسداد دہشت گردی کی کارروائی کےنتیجے میں داخلی طور پر نقل مکانی کرنے والوں (آئی ڈی پیز) کی امداد کے لیے، وزیر خارجہ کے دورہٴ پاکستان کے دوران، امریکہ نے مجموعی طور پر 25 کروڑ ڈالر کا اعلان کیا۔

میری ہارف نے کہا کہ انسداد دہشت گردی کےمیدان میں امریکہ پاکستان تعلقات کی تاریخ طویل ہے۔

بقول اُن کے، دہشت گردی کے باعث، کسی اور ملک کےمقابلے میں،پاکستان کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ دونوں ملکوں کے روابط، تعاون اور بات چیت جاری ہے۔

XS
SM
MD
LG