رسائی کے لنکس

امریکی شہر سیاٹل شیشہ گری کے فن میں شہرت رکھتا ہے


گلاس آرٹ

گلاس آرٹ

جس طرح کچھ فنکار اپنے فن کے اظہار کے لیے کینوس کا سہارا لیتے ہیں یا پتھر کی تراش خراش کرتے ہیں، اُسی طرح بعض فنکار اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے لیے شیشے کو اپنا ذریعہ بناتے ہیں۔

انسان زمانہٴ قدیم سے ہی شیشے کو اوزار، ہتھیار، برتن یا آرائش کا سامان بنانے کے لیے استعمال کرتا رہا ہے۔

آثار قدیمہ کے ماہرین نے چار ہزار سال قبل مسیح کے شیشے کے بنے ہوئے موتی یا تعویز دریافت کیے ہیں۔

تقریبًا پندرہ سو سال قبل مسیح کے مصر اور مقدونیہ یا میسوپوٹیمیا میں شیشے سے پیالے بنائے جاتے تھے جو اس قدر قیمتی تھے کہ صرف بادشاہوں یا امراء کے گھروں میں رکھے جاتے تھے۔

شیشے کو پگھلا کر ایک پائپ کے ذریعے اس میں پھونک مارنے اور پھیلانے کا طریقہ کار تین سو قبل مسیح میں شام میں ایجاد ہوا اور یہیں سے جدید گلاس بلوئنگ کی بنیاد پڑی۔

ایک زمانے میں اٹلی کا شہر وینس شیشے کے فن پاروں کا گڑھ سمجھا جاتا تھا۔

1960ء کے عشرے میں امریکہ میں سٹوڈیو گلاس کی تحریک نے زور پکڑا اور فن کاروں نے اپنے فن کی تخلیق کے لیے بڑی بڑی فیکٹریوں سے نکل کر اپنے سٹوڈیو بنانے شروع کیے۔

امریکہ کا شہر سیاٹل اس تحریک کی روح و رواں ہے۔ یہاں موجود گلاس سٹوڈیوز میں جہاں معروف فنکار اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو شیشے کا روپ دیتے ہیں، وہیں شوقیہ فنکاروں کو پگھلا ہوا شیشہ ڈھالنے کی تربیت بھی دی جاتی ہے۔ اسی طرح کا ایک سٹوڈیو ہے سیئٹل گلاس بلوئنگ سٹوڈیو، جس کا ذکر سیاحوں کے لیے بنائے گئے سیئٹل کے نقشے پر بھی ہے۔

شونا ایکلینڈ سیئٹل گلاس بلوئنگ سٹوڈیو میں کئی سال سے کام کر رہی ہیں۔وہ کہتی ہیں کہ اچھی بات یہ ہے کہ یہ سٹوڈیو عام لوگوں کے لیے کھلا ہے اور کوئی بھی یہاں آکر گلاس بلوئنگ سیکھ سکتا ہے۔ لیکن کچھ سیاح سیئٹل کے کسی فنکار کا کام خریدنا چاہتے ہیں۔ اس لیے یہاں دونوں طرح کے لوگ آتے ہیں۔

بہت سے لوگ یہاں نہ صرف فن کاروں کو کام کرتا دیکھنے آتے ہیں بلکہ سووینئیر کے طور پر اپنے ہاتھ سے کچھ بنانا چاہتے ہیں۔

اس طرح کے سٹوڈیوز میں انتہائی گرم بھٹیاں لگی ہوتی ہیں جہاں شیشے کو دو ہزار سینٹی گریڈ سے بھی زیادہ درجہ حرارت پر پگھلایا جاتا ہے۔ فنکار سٹیل کے پائپ کا سرا اس پگھلے ہوئے شیشے میں ڈبوتے ہیں اور حسب ضرورت شیشہ باہر نکال کر اسے ایک خاص رفتار سے گھمانا شروع کرتے ہیں۔ شیشہ بھٹی سے نکلتے ہی ٹھنڈا ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ اسے دوبارہ پگھلانے کے لیے دوبارہ بھٹی کے اندر کیا جا سکتا ہے، لیکن اسے ایک خاص شکل دینے کے لیے جس مہارت کی ضرورت ہوتی ہے وہ برسوں کی تربیت اور مشقت سے آتی ہے۔

یوں تو اس سٹوڈیو میں شیشے کے بنے چھوٹے موٹے آرائشی سامان سے لے کر باتھ روم کے سِنک تک سب کچھ بنتا ہے لیکن کچھ آئٹم عوام میں زیادہ مقبول ہیں۔

شونا کہتی ہیں کہ ہمارا سب سے مقبول آئٹم دیوار پر ٹانگنے والے ہمارے پیس ہیں۔ اس کے علاوہ چھوٹے پیالے۔ لوگوں کو یہ دونوں بہت پسند آتے ہیں کیونکہ انہیں آپ گھر میں کہیں بھی استعمال کر سکتے۔ اور یہ نہ صرف آرائش کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں بلکہ انہیں برتن کے طور پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

اگرچہ اس قسم کے گلاس سٹوڈیوز کا اصل مقصد فنکاروں کی انفرادیت کو برقرار رکھنا اور انہیں اپنے فن کے اظہار کا ذریعہ فراہم کرنا ہے لیکن بہت سے پراجیکٹس ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے لیے کئی فنکار آپس میں مل کر ایک آئیڈیے پر کام کرتے ہیں ۔

جدید موسیقی کی دھن پر اپنے کام میں مصروف اِن نوجوان فن کاروں کے رویوں میں خوشی اور اطمینان کی جھلک ملتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ایسا کام کرتے ہیں جو کام نہیں ان کا شوق ہے۔ امریکہ میں ایسے خوش قسمت کم ہیں جو اپنے ذریعہ معاش سے اس قدر مطمئن ہوں۔

XS
SM
MD
LG