رسائی کے لنکس

حاصل ہونے والے یہ نتائج آج رسالے ’نیچر‘ میں شائع ہوئے ہیں، اور اِس خبر سے علم فلکیات کی دنیا میں بھونچال آچکا ہے، اس لیے نہیں کہ یہ اتنا نزدیک ہے بلکہ اس کی موجودگی یہ بھی ثابت کرتی ہے کہ زمین جیسے سیارے ہماری کہکشاں میں ہر جگہ ہو سکتے ہیں

اتنی قریب، تاہم اتنی دور؟ اس کا کیا مطلب ہے؟

جب ہیئیت دان کرہٴارض سے بہت دور زمین جیسی پہاڑی نما کرہٴ ارضی دریافت کر لیں، جو رہائش کے قابل لگتی ہو، جہاں ایک ستارہ بھی موجود ہو؛ وہ ہمارے ہمسایہ میں نہیں، بلکہ دروازے کی اوٹ میں واقع ہے؟

ہیئیت دانوں کی ایک بین الاقوامی ٹیم نے اس سورج اور زمین سے بہت دور ایک سیارہ دریافت کیا ہے، جو قریب ترین ستارے ’پروکسیما سینچوئر‘ کے مدار کا چکر لگاتا ہے۔ یہ معاملہ محض 4.7 نوری سال کی دوری کا ہے؟

حاصل ہونے والے یہ نتائج آج رسالے ’نیچر‘ میں شائع ہوئے ہیں، اور اِس خبر سے علم فلکیات کی دنیا میں بھونچال آچکا ہے، اس لیے نہیں کہ یہ اتنا نزدیک ہے بلکہ اس کی موجودگی یہ بھی ثابت کرتی ہے کہ زمین جیسے سیارے ہماری کہکشاں میں ہر جگہ ہو سکتے ہیں۔
یہ سیارہ زمین سے کچھ بڑا ہے اور سائنس دانوں نے اِسے ’پروگزیما بی‘ کا نام دیا ہے۔ یہ اپنے چھوٹے سے سورج کے گرد 11 روز میں چکر مکمل کرتا ہے؛ اور یہ اتنی گرم ہے کہ اگر اس سیارے پر پانی موجود ہے تو یہ وہاں مائع رہ سکتا ہے۔

ایک مدت سے سائنس دانوں کی یہی رائے رہی ہے کہ زندگی کی ضروریات میں پانی ضروری ہے، جو کچھ گرم لیکن بہت ہی زیادہ گرم نہ ہو۔ اِسی معیار پر ’پروگزیما بی‘ سیارہ پورا اترتا ہے، جو زمین سے دور زندگی کی تلاش کی ایک شرط رہی ہے۔

یہ سمجھنے کے لیے کہ اس کا کیا مطلب ہوا، ’وائس آف امریکہ‘ نے ناسا کے مشاورتی گروپ کے سربراہ، الن بوس سے گفتگو کی، جو ’ایکسپو پلانیٹ‘ کی تلاش کی جستجو سے وابستہ ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’پروگزیما بی‘ کی دریافت سے پختہ اور حیران کرنے والا ثبوت مل چکا ہے کہ زمین جیسے بہت سے سیارے موجود ہیں۔ اتنے کہ جتنے زیادہ تر سائنس دان سوچ بھی نہیں سکتے۔

XS
SM
MD
LG