رسائی کے لنکس

پاکستان میں چھٹی مردم و خانہ شماری کا دوسرا اور حتمی مرحلہ منگل کو شروع ہوا جو آئندہ ماہ کی 24 تاریخ تک جاری رہے گا۔

اس مرحلے میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاوہ صوبہ پنجاب اور سندھ کے اکیس، اکیس، خیبر پختونخواہ کے 18، بلوچستان کے 17، گلگت بلتستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے پانچ، پانچ اضلاع میں مردم و خانہ شماری کی جائے گی۔

19 سال کے تعطل سے ملک میں اس مردم شماری کا آغاز 15 مارچ کو ہوا تھا جس میں ملک کے مختلف علاقوں کے 63 اضلاع میں یہ عمل مکمل کیا گیا۔

مردم شماری کے چیف کمشنر آصف باجوہ کے مطابق محکمہ شماریات پہلے مرحلے میں 37 لاکھ لوگوں کے فراہم کردہ ڈیٹا کی کوائف کے اندراج کے قومی ادارے "نادرا" سے تصدیق کروا چکی ہے اور ان کے بقول پہلا مرحلہ کامیابی سے مکمل ہوا۔

پیر کو اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا خطرات کے باوجود یہ عمل اپنے پایہ تکمیل کو پہنچا۔

مردم شماری میں معاونت اور اس میں شامل اہلکاروں کے تحفظ کے لیے فوج کے اہلکار بھی ہر ٹیم کے ساتھ تعینات کیے گئے تھے، لیکن اس کے باوجود چند ناخوشگوار واقعات رونما ہو چکے ہیں۔

گزشتہ ماہ لاہور میں مردم شماری کی ٹیم کو لے جانے والی گاڑی پر ہونے والے خودکش حملے میں پانچ فوجی اہلکاروں سمیت سات افراد ہلاک ہو گئے تھے جب کہ مارچ میں چارسدہ میں مردم شماری کی ٹیم پر فائرنگ سے ایک پولیس اہلکار زخمی ہو گیا تھا۔

بلوچستان کے ضلع کیچ سے مردم شماری کے آٹھ شمارکنندگان لاپتا ہو گئے تھے جن کے بارے میں چیف کمشنر آصف باجوہ نےبتایا کہ سات اہلکار واپس آ چکے ہیں جب کہ ابھی تک لاپتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG