رسائی کے لنکس

شام سے متعلق روس، ترکی اور ایران کے مذاکرات


اس تنازع میں اب تک تین لاکھ افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں۔

ماسکو اور تہران اس جنگ میں شام کے صدر بشار الاسد کی حکومت کی حمایت کرتے ہیں جب کہ انقرہ حزب مخالف کا حامی ہے۔

قازقستان کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ روس، ترکی اور ایران کے درمیان شام میں ان کی کوششوں سے وضع کردہ جنگ بندی کی نگرانی کی حکمت عملی طے کرنے کے لیے مذاکرات شروع ہو گئے ہیں۔

وزارت کا کہنا تھا کہ دارالحکومت آستانہ میں ہونے والی بات چیت میں متوقع طور پر اقوام متحدہ اور اردن کے نمائندے بھی شریک ہوں گے۔

شام میں جاری لڑائی سے متعلق قازقستان کے دارالحکومت میں ہونے والے مذاکرات کا یہ دوسرا دور ہے۔

پہلا دور گزشتہ ماہ کی 23 اور 24 تاریخ کو ہوا تھا جس میں شام کی چھ سالہ خانہ جنگی کے سیاسی حل کی راہ تلاش کرنے میں فریقین ناکام رہے تھے، لیکن طرفین نے اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ جنگ بندی کی نگرانی کے لیے جوائنٹ آپریشنل گروپ (جے او جی) نامی حکمت عملی وضع کی جائے گی۔

اس گروپ میں روس، ترکی اور ایران کے ماہرین شامل ہیں۔

ماسکو اور تہران اس جنگ میں شام کے صدر بشار الاسد کی حکومت کی حمایت کرتے ہیں جب کہ انقرہ حزب مخالف کا حامی ہے۔

تقریباً چھ سال سے جاری اس تنازع میں اب تک تین لاکھ افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں۔

2011ء میں شروع ہونے والی اس خانہ جنگی کے دوران شدت پسند گروپ داعش نے بھی شام کے ایک وسیع حصے پر قبضہ کر لیا تھا جس کے خلاف امریکہ کی زیرقیادت اتحادی ممالک کے علاوہ روس نے بھی کارروائیاں کی ہیں۔

XS
SM
MD
LG