رسائی کے لنکس

پاکستان کی دفاعی حکمت عملی پر نظر ثانی

  • کراچی

دفاعی تنصیبات پر دہشت گردوں کے پے درپے حملوں کے پیش نظر ملک بھر میں دفاعی حکمت عملی پر نظر ثانی کی گئی ہے اور ایک مضبوط دفاعی پالیسی مرتب کی گئی ہے

پاکستان کے سیکریٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل ( ر) آصف یاسین ملک نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کو آگاہ کیا ہے کہ دفاعی تنصیبات پر دہشت گردوں کے پے درپے حملوں کے پیش نظر ملک بھر میں دفاعی حکمت عملی پر نظر ثانی کرکے ایک مضبوط دفاعی پالیسی مرتب کی گئی ہے۔ جبکہ تحقیقات کے بعد حملوں میں ملوث حساس اداروں کے اہلکاروں کو سزائیں بھی دی جاچکی ہیں۔

بدھ کو اسلام آباد میں قائمہ کمیٹی کو دی گئی بریفنگ میں پہلی بار ملک کی اہم دفاعی تنصیبات پر ہونے والے دہشت گرد حملوں کی تحقیقات سے بھی آگاہ کیا گیا۔ مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق سیکریٹری دفاع نے بتایا کہ گزشتہ چار سالوں میں دفاعی تنصیبات پر 16حملے ہوئے، آخری دو بڑے حملوں میں کامرہ اور پشاور ائیر بیس کو نشانہ بنایا گیا۔

کامرہ ائیر بیس کی تفصیلات بتاتے ہوئے سیکریٹری دفاع نے بتایا کہ اس میں دس دہشت گردوں نے حملہ کیا جس میں طیارہ ساب تباہ ہوا جبکہ تمام حملہ آور سیکورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں مارے گئے۔ پشاور ائیر پورٹ پر چاروں اطراف سے حملہ کیا گیا تھا تاہم بروقت جوابی کارروائی کے باعث تنصیبات محفوظ رہیں۔

ایک ایسے وقت میں جب ملک میں ہر دوسرے روز دہشت گردی کی بڑی کارروائیوں میں قوم اور فورسز کو بھاری جانی و مالی نقصان کا سامنا ہے۔بادی النظر دہشت گرد حکومتی رٹ کو بھی مسلسل چیلنج کر رہے ہیں، دفاعی تنصیبات محفوظ ہیں نہ عوام، دہشت گرد دفاعی حصار کو توڑتے ہوئے اپنے مقاصد حاصل کرتے نظر آ رہے ہیں۔ ایسی صورتحال میں دفاعی ماہرین گزشتہ کئی عرصے سے دفاعی پالیسی کا ازسرنو جائزہ لینے کا مطالبہ کر رہے تھے۔

گزشتہ سال سولہ اگست کو کامرہ ائیر بیس اور پندرہ دسمبر کو پشاور ائیر پورٹ پر ہونے والے دونوں حملوں کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی تھی۔سیکریٹری دفاع کا دفاعی حکمت عملی پر نظر ثانی سے متعلق بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں تحریک طالبان سے مذاکرات کی باز گشت سنائی دے رہی ہے۔

صرف دو روز قبل ہی طالبان کی جانب سے ایک ویڈیو پیغام میں حکومت ِپاکستان کو مذاکرات کی مشروط دعوت دی گئی ہے جس میں پانچ ساتھیوں کی رہائی کے مطالبے کے علاوہ کہا گیا ہے کہ اپوزیشن جماعت ن لیگ کے سربراہ نواز شریف، جے یو آئی ف کے سربراہ فضل الرحمن اور جماعت اسلامی کے امیر منور حسن ضمانت دیں تو مذاکرات کامیاب ہو سکتے ہیں۔

اس حوالے سے بدھ کو مولانا فضل الرحمن نے اسلام آباد میں میڈیا کو بتایا کہ ابھی تک کسی فریق کی جانب سے مذاکرات سے متعلق ان سے رابطہ نہیں کیا گیا۔ ضمانت دینا اتنا آسان کام نہیں جب تک اس حوالے سے پورے حقائق سامنے نہیں لائے جاتے۔ وہ ازخود اتنی بڑی سیاسی طاقت نہیں کہ قوم اور فوج کی ضمانت دے سکیں۔ ن لیگ اور جماعت اسلامی کی جانب سے تاحال کوئی رد ِعمل سامنے نہیں آ سکا۔

ماہرین اس تمام تر تناظر میں سیکریٹری دفاع کی جانب سے دفاعی حکمت عملی پر نظر ثانی سے متعلق بیان کو انتہائی اہم قرار دے رہے ہیں ۔ ان کا خیال ہے کہ مذاکرات سے اگر معاملات حل نہ ہوں تو پھر دہشت گرد حملوں کے بعد کارروائی کے بجائے پیشگی کارروائی کی حکمت عملی سے نہ صرف تنصیبات اورقیمتی جانوں کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے بلکہ دہشت گردی کی کمربھی توڑی جا سکتی ہے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG