رسائی کے لنکس

کشیدگی پر قابو پانے کی غرض سے جمعے کو علاقے میں فوجی دستے تعینات کردیے گئے تھے تاہم متاثرہ علاقوں میں اب بھی پرتشدد واقعات پیش آرہے ہیں۔

برما کے ایک وسطی شہر میں مسلمانوں اور مقامی بدھ باشندوں کے درمیان گزشتہ ہفتے پھوٹنے والے فسادات کا سلسلہ علاقے میں ہنگامی حالت اور کرفیو کے نفاذ کے باوجود بدستور جاری ہے۔

حالیہ کشیدگی سے سب سے زیادہ متاثر مکھتیلا نامی شہر ہوا ہے جس کے نواحی قصبوں میں دونوں مذاہب کے ماننے والوں کے مابین اتوار کو بھی جھڑپیں ہوئیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ صرف مکتھیلا شہر میں جھڑپوں کے نتیجے میں اب تک 20 سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ برما کے انتظامی دارالحکومت نیپےدو سے 130 کلومیٹر شمال میں واقع اس شہر کا کنٹرول ہفتے کو فوج نے سنبھال لیا تھا۔

برما کے روہنگیا مسلمانوں کی ایک تنظیم 'اراکان روہنگیا نیشنل آرگنائزیشن' نے اپنے ایک بیان میں الزام عائد کیا ہے کہ پولیس اور دیگر سیکیورٹی فورسز نے فسادات کو روکنے کے لیے کچھ نہیں کیا۔

خیال رہے کہ فسادات کا حالیہ سلسلہ گزشتہ ہفتے زیورات کی ایک دکان کے مسلمان مالک اور بدھ گاہک کے درمیان تکرار سے شروع ہوا تھا جس نے مذہبی جھگڑے کی صورت اختیار کرلی تھی۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق بعد ازاں فسادات میں شدت آگئی تھی اور جمعے کو حکومت کی جانب سے علاقے میں ہنگامی حالت کے نفاذ سے قبل تک علاقے کی کئی مساجد اور بستیاں نذرِ آتش کی جاچکی تھیں۔

برما کے صدر تھین سین کی جانب سے ہنگامی حالت کے نفاذ کے اعلان کے بعد کشیدگی پر قابو پانے کی غرض سے جمعے کو علاقے میں فوجی دستے تعینات کردیے گئے تھے تاہم متاثرہ علاقوں میں اب بھی پرتشدد واقعات پیش آرہے ہیں۔

برما کی مغربی ریاست راکھین میں بدھ مت سے تعلق رکھنے والی اکثریتی آبادی اور مسلمان اقلیت کے درمیان گزشتہ سال بھی فسادات ہوئے تھے جن میں 200 کے لگ بھگ افراد ہلاک اور ایک لاکھ سے زائد بے گھر ہوگئے تھے۔

فسادات کے متاثرین اور ہلاک شدگان کی اکثریت روہنگیا نسل کے مسلمانوں کی تھی۔
XS
SM
MD
LG