رسائی کے لنکس

کابل میں پاکستانی سفارت خانے کی سکیورٹی بڑھا دی گئی: سرتاج عزیز


کابل میں پاکستانی سفارت خانے کی عمارت (فائل فوٹو)

کابل میں پاکستانی سفارت خانے کی عمارت (فائل فوٹو)

پاکستانی مشیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اُن کی افغان قیادت سے ملاقاتوں کا محور غلط فہمیوں کو دور کرنا اور اعتماد کو بحال کرنا تھا۔

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف کے مشیر برائے اُمور خارجہ و قومی سلامتی سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ افغان حکومت نے پاکستان کے سفارتی عملے کے تحفظ کی یقین دہانی کروائی ہے۔

سرتاج عزیز نے منگل کو اسلام آباد میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو میں کہا کہ اُن کے حالیہ دورہ افغانستان کے دوران دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد سازی کے لیے اقدامات پر اتفاق کیا گیا ہے۔

’’ہمارے سفارت خانے کی سیکورٹی کا مسئلہ تھا، اُس پر انھوں (افغان حکام) نے یقین دہانی کروائی ہے کہ آپ کو آئندہ کوئی فکر نہیں ہو گی۔ سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے اور جیسے جیسے پاکستان مخالف بیانات کم ہوں گے، تو خود بخود سلامتی کی صورت حال بہتر ہو جائے گی۔‘‘

پاکستان کی طرف سے حالیہ ہفتوں میں افغانستان میں تعینات اپنے سفارتی عملے کی سلامتی سے متعلق خدشات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔

عہدیداروں کے مطابق افغانستان میں پاکستان مخالف بیانات اور سلامتی کے خدشات کے باعث پاکستانی سفارتی عملے کے افراد بازاروں میں خریداری کے لیے بھی نہیں جا سکتے۔

گزشتہ ہفتے سرتاج عزیز نے ایک علاقائی کانفرنس میں شرکت کے لیے کابل کا دورہ کیا تھا اور اس دوران اُنھوں نے افغان صدر اشرف غنی، وزیر خارجہ صلاح الدین ربانی، اور افغانستان کے قومی سلامتی کے مشیر حنیف اتمر سے بھی ملاقاتیں کی تھیں۔

سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ کابل میں اگست کے اوائل میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کے بعد افغانستان سے پاکستان مخالف بیانات کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

اُن کے بقول ایسے بیانات پر پاکستان میں بھی یہ منفی ردعمل دیکھا گیا کیوں کہ پاکستانیوں کا یہ موقف تھا کہ ہم نے ’’35 سالوں سے اتنی قربانی دی ہے اور اس کے باجود مسلسل پاکستان مخالف مہم ہمارے تعلقات کے لیے بہتر نہیں ہے۔‘‘

سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ اُن کی افغان قیادت سے ملاقاتوں کا محور غلط فہمیوں کو دور کرنا اور اعتماد کو بحال کرنا تھا۔

’’صدر اشرف غنی نے اس سے اتفاق کیا کہ ہمیں عدم اعتماد کو کم کرنا چاہیئے اور غلط فہمیوں کو دور کیا جائے۔۔۔۔ اس کے لیے پانچ چھ تجاویز سامنے آئیں اور یہ طے ہوا کہ اس پر مزید کام کرنے کے بعد باہمی اعتماد سے متعلق ایک یاداشت پر دستخط کیے جائیں تاکہ آئندہ ایسے واقعات نا ہوں۔‘‘

سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کے درمیان اقتصادی تعلقات کو بہتر بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا اور اُن کے بقول نومبر کے پہلے ہفتے میں افغانستان کے وزیر خزانہ پاکستان آئیں گے۔

واضح رہے کہ پاکستان نے افغانستان میں امن و مصالحت کے لیے اہم کردار ادا کرتے ہوئے رواں سال جولائی میں افغان حکومت اور طالبان کے نمائندوں کے درمیان پہلی براہ راست بات چیت کی میزبانی کی، جس میں چین اور امریکہ کے نمائندے بھی شریک تھے۔

امن مذاکرات کا دوسرا دور بھی پاکستان میں ہونا تھا لیکن عین وقت پر افغان طالبان کے سربراہ ملا عمر کے انتقال کی خبروں کے منظر عام پر آنے کے بعد یہ عمل موخر کر دیا گیا۔

لیکن طالبان کی نئی قیادت کے اعلان کے بعد کابل میں پے در پے ہونے والے دہشت گردوں حملوں کے بعد نا صرف افغانستان کی طرف سے پاکستان پر تنقید کی گئی بلکہ امن کے لیے جاری کوششیں بھی رک گئیں۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ اگر افغانستان حکومت امن عمل کی بحالی میں سنجیدہ ہے تو اسلام آباد اس ضمن میں اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔

XS
SM
MD
LG