رسائی کے لنکس

چکرورتی نے مئی میں پولیس سے شکایت کی تھی کہ مشبتہ افراد اُنھیں عوامی مقامات پر ٹکراتے اور دھمکیاں دیتے ہیں اور یہ کہ اُن کی زندگی کو خطرہ لاحق ہے۔ بعدازاں، فیس بک پر شائع ایک پوسٹ میں اُنھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ پولیس نے اُن کی شکایت کو سنجیدگی سے نہیں لیا

چھ افراد پر مشتمل ایک ٹولہ جو قصائی کے چھروں اور چاپڑ سے مسلح تھا، بنگلہ دیش میں جمعے کے روز ایک بلاگر کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ یوں، اِس برس کے اوائل سے اب تک یہ چوتھے سیکولر ادیب تھے جنھیں اِس جنوب ایشیائی ملک میں قتل کیا گیا۔

چالیس برس کے نلوئے چکرورتی جو اپنے لادین خیالات کی بنا پر شہرت رکھتے تھے، اُنھیں دوپہر کے وقت گوران نامی ڈھاکہ کے مضافات میں واقع اُن کے گھر پر ہلاک کیا گیا۔

عمران ایچ سرکار بنگلہ دیش میں ’بلاگر‘ اور ’آن لائن ایکٹوسٹ نیٹ ورک‘ کے معاملات دیکھتے ہیں۔ ایک انٹرویو میں، اُنھوں نے بتایا کہ، ’یہ افراد نلوئے ہاؤس کے اندر داخل ہوئے، اُن کی بیوی اور ایک دوست کو دھکا دیا، اور اُن پر وار کرکے ہلاک کیا۔ اس سے قبل، اِسی سال، تین سیکولر بلاگرز کو بیچ سڑک قتل کیا گیا‘۔

ڈھاکہ میں پولیس نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ اس بات کا یقین کرنے کے لیے کہ بلاگر دم توڑ چکا ہے، حملہ آوروں نے تیز دھار آلے سے اُن کی گردن تن سے جدا کردی۔

کچھ ہی گھنٹے بعد، ابلاغ عامہ کے ذرائع کو ایک پیغام موصول ہوا جس میں اس قتل کی ذمہ داری بھارتی برصغیر میں القاعدہ کے بنگلہ دیش کے ایک دھڑے نے قبول کرنے کا دعویٰ کیا۔

مستفیض الرحمٰن بُھئیان، ڈھاکہ کے کھلاگاؤں پولیس تھانے کے افسر انچارج ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ حملہ آورجھانسہ دے کر چکرورتی کے گھر کے اندر داخل ہوئے۔

بھئیان نے ٹیلی فون پر ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ ایک شخص نے چکرورتی کے دروازے پر دستک دی اور بتایا کہ وہ گھر کرائے پر لینا چاہتے ہیں۔ چکرورتی نے اُن کی مدد کرنا چاہی اور اُنھیں پانچویں منزل پر واقع ایک اپارٹمنٹ میں بلایا۔ اُس وقت دیگر افراد، جو تیز دھار کے آلوں سے لیس تھے، گھر کے اندر گھس آئے‘۔

بقول اُن کے، اُن میں سے دو حملہ آور چکرورتی کو ایک کمرے کے جانب لے گئے اور اُنھیں چھرا مار کر ہلاک کیا۔

بھئیان نے بتایا کہ حملہ آوروں نے حملے کے لیے ایسا وقت چُنا جب نماز جمعہ ادا کرنے کے لیے زیاد تر ہمسائے مرد حضرات وہاں موجود نہیں تھے۔

چکرورتی نے بنگالی زبان میں ’استشان‘ نامی ایک بلاگ تحریر کیا، جس کا مطلب ’اسٹیشن‘ یا ’ریلوے اسٹیشن‘ ہے۔ اُن کا تخلص ’نلوئے نیل‘ تھا اور وہ تمام مذاہب میں بنیادپرستی کے مخالف تھے۔

یہ بلاگر ایک غیر سرکاری تنظیم کے لیے کام کرتے تھے، اور ساتھ ہی، ڈھاکہ کے ’نیشنل اویکننگ پلیٹ فارم‘ کے ایک سرگرم کارکن تھے۔ یہ گروپ بنگلہ دیشی ٹربیونل برائے خانہ جنگی کے جرائم کہ پوچھ گچھ کا حامی ہے اور اُن تمام لوگوں پر مقدمات کی حمایت کرتا ہے جو 1971ء کی جنگ آزادی کے دوران خانہ جنگی میں ملوث تھے۔
چکرورتی نے مئی میں پولیس سے شکایت کی تھی کہ مشبتہ افراد اُنھیں عوامی مقامات پر ٹکراتے اور دھمکیاں دیتے ہیں اور یہ کہ اُن کی زندگی کو خطرہ لاحق ہے۔ بعدازاں، فیس بک پر شائع ایک پوسٹ میں اُنھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ پولیس نے اُن کی شکایت کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔

اپنی شناخت چھپانے کی غرض سے، ڈھاکہ میں مقیم اِس بلاگر نے فیس بک سے اپنی تمام تصاویر ہٹا دی تھیں، جب کہ اپنی جعلی رہائش، کولکتہ ظاہر کی تھی۔

سرکار کا تعلق بھی اُسی گروپ سے ہے۔ اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ ایک اسلام نواز گروہ نے چکرورتی کو ہدف بنانے کی فہرست میں شامل کر رکھا تھا۔

XS
SM
MD
LG