رسائی کے لنکس

کراچی ایئرپورٹ پر دہشت گردی اور پشاور ایئرپورٹ پر فائرنگ کے واقعات کے بعد کچھ غیر ملکی ایئر لائنز نے پاکستان میں اپنے فلائٹ آپریشنز معطل کردیئے ہیں، جبکہ کچھ رات کے وقت آپریشن اور کچھ پشاور ایئرپورٹس سے فلائٹ آپریٹ کرنے سے گریزاں ہیں۔ یہ صورتحال ایک سوالیہ نشان بن گئی ہے

ہانگ کانگ کی نجی ایئرلائن ’کیتھے پیسیفک‘ کے لئے 29جون کا دن پاکستان سفر کا آخری دن تھا۔ ایئرلائن کے جنرل منیجر سیلز سہیل یونس کا کہنا ہے کہ اتوار کے روز کراچی سے ہانگ کانگ کے لئے سفر پر روانہ ہونے والی پرواز آخری تھی ۔ایئرلائن نے کراچی ایئرپورٹ پر 8جون کو ہونے والے دہشت گردی کے واقعہ کے بعد ہی اپنا فلائٹ آپریشن غیر معینہ مدت تک بند کرنے کا اعلان کردیا تھا۔

ادھر پشاور میں پی آئی اے کی پرواز پر لینڈنگ کے دوران فائرنگ کے واقعات کے بعد ’ایمریٹس ایئرلائن‘ اور’اتحادایئرویز‘ نے بھی پشاورسے اپنافضائی آپریشن عارضی طورپر معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔حالانکہ ڈائریکٹرجنزل سول ایوی ایشن نے تمام غیر ملکی ایئرلائنز کے نمائندوں کے ساتھ ایک اہم ملاقات بھی کی تھی جس میں غیر ملکی ایئرلائنز کو مکمل سیکورٹی فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی۔

خلیجی ممالک سے تعلق رکھنے والی دو اور ایئرلائنز ’قطر ائیرویز‘ اور ’سعودی ائیرلائنز‘ نے بھی پشاور کے باچا خان ایئرپورٹ سے اپنا فلائٹ آپریشن معطل کیا ہوا ہے۔ ان ائیرویز کا کہنا ہے کہ وہ حالات کا اور سیکورٹی کا بغور جائرہ لے رہے ہیں۔

ایمریٹس ایئرلائنز کی جانب سے اپنی ویب سائٹ پر پشاور سے 25جون سے عارضی طور پر تمام پروازیں منسوخ کرنے کا بھی اعلان موجود تھاجو اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ غیر ملکی ایئر لائنز نے کراچی ایئرپورٹ پر حملے اور پشاور میں طیارے پر فائرنگ کے بعد پاکستان میں فلائٹ آپریشن جاری رکھنے یا بند کرنے پر غور شروع کر دیا ہے۔

ادھر کچھ اس قسم کی بھی اطلاعات ہیں کہ پاکستان کے چار بڑے ایئرپورٹس کے رن ویز کی سیکورٹی فوجی اہلکاروں کے سپرد کی جارہی ہے۔ وزیراعظم کے خصوصی معاون برائے شہری ہوابازی شجاعت عظیم نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ پاکستانی آرمی اور پیرا ملٹری رینجرز کراچی، اسلام آباد، پشاور اور لاہور ایئرپورٹس کی اہم تنصیبات کی سیکورٹی کی ذمے دار ہوں گی۔ ان ایئرپورٹس کو حساس قرار دیا گیا ہے۔

عام حالات میں رن ویز کی سیکورٹی اے ایس ایف یعنی ایئرپورٹ سیکورٹی فورس انجام دیتی ہے لیکن اب اسے سیکورٹی فورسز اور رینجرز کا بھی تعاون حاصل ہوگا۔

ایک ہی ماہ میں تین واقعات
پشاور واقعے کے نتیجے میں نامعلوم افراد کی پشاور آنے والے طیارے پر فائرنگ سے ایک خاتون ہلاک اور عملے کے 2 افراد زخمی ہوگئے تھے۔یہ ایک ماہ کے دوران پاکستانی ایئرپورٹ پر ہونے والا تیسرا واقعہ تھا۔

جون کی آٹھ تاریخ کو نامعلوم دہشت گردوں نے کراچی ایئرپورٹ پر حملہ کردیا تھا جس کے نتیجے میں کئی افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے تھے۔ حملے کے بعد بڑے پیمانے پر آپریشن بھی کیا گیا۔

23جون کو حکومت مخالف رہنما ڈاکٹر طاہر القادری کی دبئی سے کراچی آنے والی ایمریٹس ایئرلائن کی پرواز کا رخ اسلام آباد کی بجائے لاہور موڑ دیا گیاجس کے نتیجے میں لاہور میں اچھا خاصہ ہنگامہ ہوگیا جبکہ پرواز کو بھی واپسی جانے میں کئی گھنٹے لگ گئے۔

کروڑوں کا نقصان
کیتھے پیسفک کی جانب سے فلائٹ آپریشن بند ہوجانے سے بڑے پیمانے پر مالی نقصان ہوا ہے ۔ کیتھے پیسفک کے پاکستان میں کنٹری منیجر فیروز جمال نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ کیتھے پیسفک ہانگ کانگ کی نجی ایئرلائن ہے اور پاکستان کے ایئرپورٹس کی سیکورٹی پر تشویش کے سبب ہی اس نے فلائٹ آپریشن منسوخ کیا ہے۔ فیروز کے اس بیان سے واضح ہوتا ہے کہ ایئرلائن کی منسوخی کا فیصلہ عارضی نہیں بلکہ مستقل ہوسکتا ہے۔

اس ایئرلائن کی ہفتے میں چار فلائٹس چلا کرتی تھیں۔ ایئرلائن 2000ء سے اپنا آپریشن جاری رکھے ہوئے تھی تاہم اتحادی فورسز پر حملوں کی وجہ سے پہلے بھی تین ماہ کے لئے فلائٹ آپریشن معطل ہوچکا ہے۔

پاکستان میں غیرملکیوں کی آمد اس وقت دہشت گردی کے واقعات اور خاص کر 2007میں سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو قتل کے بعد سے مسلسل کم ہوگئی ہے۔ پاکستان میں غیر ممالک کا سفر کرنے والے مسافروں کی سالانہ تعداد 90لاکھ ہے ۔

لیڈنگ ایئرلائنز جیسے برٹش ایئرویز، سنگاپور ایئرلائن، لفتھانسا اور ملیشین ایئر لائنز نے سنہ 2012سے ہی اپنے آپریشن یا تو بند کردیئے ہیں یا وہ بہت محدود ہوگئے ہیں ۔برٹش ایئرویز نے سن 2008ء میں اسلام آباد کے میریٹ ہوٹل بم دھماکے کے بعد اپنا آپریشن معطل کیا تھا۔

سول ایوی ایشن کے اعدادو شمار کے مطابق پاکستان میں صرف 19غیر ملکی ائیرلایئز آتی ہیں اور ان میں سے بھی زیادہ تر کا تعلق خلیجی ریاستوں سے ہے، صرف کیتھے ہی ایک قابل ذکر ایئرلائن ہے۔

ایمریٹس ایئر لائنز پشاور کے لئے ہفتے میں پانچ فلائٹس چلاتی ہے جبکہ پورے پاکستان کے لئے اس کی ہفتے میں مجموعی طور پر 66پروازیں چلتی ہیں۔ پاکستان سول ایوی ایشن کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ ادارے نے ایمریٹس کو اسلام آباد سے اضافی فلائٹس چلانے کی بھی اجازت دے دی تھی لیکن کمپنی ابھی بھی اس معاملے پر غور کررہی ہے۔

مذکورہ ایئرلائنز کے علاوہ اتحاد ایئرویز بھی پشاور ایئر پورٹ پر طیارے اتارنے سے گریزاں ہے ۔ تھائی ایئر لائن نے بھی آپریشن جاری رکھنے یا نہ رکھنے پر غور شروع کر دیاہے جبکہ مقامی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ سعودی ایئرلائنز نے بھی پشاور کیلئے اپنی پروازیں معطل کردی ہیں۔

XS
SM
MD
LG