رسائی کے لنکس

مشرق وسطی میں جمہوریت کی حمایت پر زور

  • محمد الشناوی

مشرق وسطی میں جمہوریت کی حمایت پر زور

مشرق وسطی میں جمہوریت کی حمایت پر زور

امریکہ کی وفاقی حکومت کے فنڈز سے چلنے والی ایک تنظیم کے ایک نئے تحقیقی مطالعے میں کہا گیا ہے امریکہ کو مشرقِ وسطیٰ میں اپنے اتحادیوں پر دباؤ میں اضافہ کرنا چاہیئے کہ وہ اپنے معاشروں کو زیادہ با معنی طور پر جمہوری بنائیں ۔یو ایس انسٹی ٹیوٹ آف پیس کی رپورٹ میں یہ دلیل دی گئی ہے کہ جمہوریت کی تعمیر سے امریکہ کے سکیورٹی کے مفادات کو فائدہ پہنچے گا اور اس کے ساتھ ہی ان ملکوں کے عوام کی نظر میں اپنی حکومتوں کی ساکھ میں اضافہ ہو گا۔

پیس انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ نے اکثر اپنے سکیورٹی کے مفادات کی خاطر پورے مشرقِ وسطیٰ میں جمہوریت کے فروغ کو پس پشت ڈال دیا ہے ۔اس رپورٹ کے مصنف ڈینئل برمبرگ جو انسٹی ٹیوٹ کے مسلم ورلڈ انیشی ایٹو کے قائم مقام ڈائریکٹر ہیں، کہتے ہیں کہ جمہوریت کی حمایت کرنا دراصل امریکہ کی سکیورٹی کے لیے انتہائی اہم ہے۔

وہ کہتے ہیں’’مشرقِ وسطیٰ میں اور خاص طور سے عرب دنیا میں مسئلہ یہ ہے کہ وہ حکومتیں جو امریکہ کے ساتھ پورا تعاون کرتی ہیں وہی حکومتیں ہیں جو وہاں کے عوام کی نظر میں یا تو ناجائز ہیں یا آمرانہ ہیں یا ان معاشروں سے بالکل لا تعلق ہیں جن کی نمائندگی کی وہ دعویدار ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ امریکہ کے ساتھ طویل ا لمدت تعاون کے لیے ان حکومتوں کی نمائندہ حیثیت میں اضافہ ضروری ہے۔ بہتر طرزِ حکومت اور زیادہ جمہوریت سے ان حکومتوں کو وہ جائز اور قانونی جواز مِل جائے گا جو امریکہ کے ساتھ اسٹریٹجک تعلق قائم رکھنے کے لیے ضروری ہے ۔‘‘

انسٹی ٹیوٹ آف پیس کے تحقیقی مطالعے میں کہا گیا ہے کہ عرب دنیا میں حالات کو جوں کا توں رکھنے سے صرف نمائشی تبدیلیاں آئیں گی اور مطلق العنان حکمراں حقیقی جمہوری تبدیلی کو ٹالتے رہیں گے۔اوباما انتظامیہ کو چاہیئے کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں اپنے اتحادیوں کے ساتھ مِل کر ایسے قوانین کی منسوخی کے لیے کام کرے جن سے شہریوں کی آزادیاں محدود ہوتی ہیں، سیاسی سرگرمیوں میں رکاوٹیں پڑتی ہیں، یا اظہارِ رائے اور اجتماع کی آزادی کو دبایا جاتا ہے۔

برمبرگ کہتے ہیں کہ ان خلاف ورزیوں کی طرف سے آنکھیں بند کیے رکھنے سے علاقے میں امریکی مفادات کو نقصان پہنچتا ہے۔ اس کی بہترین مثال یمن ہے جہاں31 سال سے ایسے لوگ بر سرِ اقتدار ہیں جو عوام سے لا تعلق ہیں اور جنہیں آمر اور ظالم سمجھا جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں دہشت گردی اور القاعدہ سے وابستہ مقامی عناصر کے خلاف جنگ کی کوششوں کو نقصان پہنچا ہے ۔

انسٹی ٹیوٹ آف پیس کے مطابق اپنے عوام کو دباکر رکھنے اور اس کے ساتھ ہی علاقے میں امریکہ کے سکیورٹی کے مفادات کی حمایت کرنے سے، یمن، مصر، اردن، اور پاکستان جیسے ملکوں میں امریکہ مخالف جذبات کو ہوا ملتی ہے۔ ان ملکوں کی حکومتیں امریکہ سے کہتی ہیں کہ اگر آپ ہماری حمایت نہیں کریں گے تو پھر آپ کا سابقہ اسلام پسندوں سے پڑے گا۔ یہ صورتِ حال جس میں ہمیں موجودہ حکومتوں اور ان کی مخالف قوتوں میں سے کسی کا انتخاب کرنا پڑتا ہے، ہماری پالیسیوں کا نتیجہ ہے جنہیں تبدیل کرنا ضروری ہے۔

ڈینئیل برمبرگ

ڈینئیل برمبرگ

برمبرگ کی دلیل یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جمہوریت کی حمایت سے امریکہ اور مسلمان اکثریت والے ملکوں کے ساتھ بہتر تعلقات کا جو تصور صدر اوباما نے پیش کیا ہے اس کے حصول میں مدد ملے گی۔ لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ جمہوریت کے فروغ کےساتھ علاقائی تنازعات، خاص طور سے عرب دنیا اور اسرائیل کے تنازعے کو حل کرنے کی کوششیں کی جائیں۔ لیکن اوباما انتظامیہ کو اس بات کی اجازت نہیں دینی چاہیئے کہ عرب حکومتیں اسرائیل کے ساتھ تنازعات کو اپنے ملکوں میں سیاسی اصلاحات سے بچنے کے لیئے بہانے کے طور پر استعمال کریں۔

پیس انسٹی ٹیوٹ کے اس تحقیقی مطالعے میں لیری ڈائمنڈ بھی شریک تھے۔ وہ سٹینفورڈ یونیورسٹی کے سنٹر آن ڈیموکریسی، ڈویلوپمنٹ اینڈ دی رول آف لا سے وابستہ ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر امریکہ مشرقِ وسطیٰ میں صحیح معنوں میں جمہوریت چاہتا ہے تو اسے مبہم سی حوصلہ افزائی سے زیادہ اور بھی کچھ کرنا ہوگا۔

لیری کا کہنا ہے ’’میں سمجھتا ہوں کہ بیشتر عرب لیڈر انتہائی کرپٹ اور نااہل ہیں۔ انہیں آپ کسی عقلی دلیل سے قائل نہیں کر سکتے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہمیں انہیں قائل نہیں کرنا چاہیئے اور نہ اس کا یہ مطلب ہے کہ ان ملکوں کی حکومتوں میں نسبتاً جوان اور زیادہ اصلاح پسند یا عملیت پسند عناصر موجود نہیں ہیں جن سے رابطہ قائم کیا جا سکتا ہے ۔لیکن میرا خیال یہ ہے کہ اس میں اصل اہمیت طاقت کی ہے اور ہمارے پاس طاقت کے ایسے ذرائع موجود ہیں جن سے ہم نے زیادہ اسٹریٹجک طریقے سے اور پوری طرح فائدہ نہیں اٹھایا ہے ۔‘‘

لیری ڈائمنڈ کہتے ہیں کہ وہ یہ نہیں کہہ رہے ہیں کہ ان ملکوں کی امداد میں کمی کر دی جائے یا سکیورٹی کے شعبے میں تعاون کم کر دیا جائے۔ وہ اوباما انتظامیہ پر زور دے رہے ہیں کہ وہ زیادہ بلند آواز اور واضح انداز سے جمہوریت کو فروغ دے۔

پیس انسٹی ٹیوٹ کے تحقیقی مطالعے میں جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے پروفیسر فرانسس فوکویاما بھی شامل تھے ۔ وہ کہتے ہیں کہ اوباما انتظامیہ کو بڑی احتیاط سے کام لینا ہو گا۔ جمہوری تبدیلی کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیئے لیکن حکومتوں کی تبدیلی کی دھمکی دیے بغیر۔ ’’عراق کی جنگ نے جمہوریت کے فروغ کو داغدار کر دیا ہے۔ پس جب آپ علاقے میں جمہوریت کے فروغ کی بات کرتے ہیں تو لوگوں کے ذہن میں حملے کا تصور آتا ہے۔ اس لیے آپ کو نئی ابتدا کرنی ہو گی ۔وہی تصورات جو بالکل جائز ہیں امریکی خارجہ پالیسی میں شامل ہوں لیکن انہیں کسی طرح حملے اور قبضے سے الگ کرنا ہوگا تا کہ نئی انتظامیہ کو یہ موقع ملے کہ وہ جمہوریت کو امریکہ کی مشرقِ وسطیٰ کی پالیسی کا جزو بنا سکے۔‘‘

یو ایس انسٹی ٹیوٹ آف پیس کے تحقیقی مطالعے میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے کہ وہ مصر، سعودی عرب، اردن اور پاکستان کے ساتھ سفارتی، فوجی اور سکیورٹی کے شعبوں میں تعاون جاری رکھے۔ لیکن امریکہ کو مشرقِ وسطیٰ میں جمہوریت کی حمایت میں کہیں زیادہ جارحانہ انداز اختیار کرنا چاہیئے۔

XS
SM
MD
LG