رسائی کے لنکس

سبی میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی، 10 'دہشت گرد' ہلاک

  • ستار کاکڑ

فائل فوٹو

فائل فوٹو

سکیورٹی ذرائع کے مطابق مارے جانے والوں میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کا ایک اہم کمانڈر اسلم عرف اچھو اور ترجمان میرک بلوچ بھی شامل ہے۔

پاکستان کے جنوب مغربی صوبہ بلوچستان میں سکیورٹی فورسز نے کارروائی کرتے ہوئے کالعدم علیحدگی پسند تنظیم کے دس مشتبہ عسکریت پسندوں کو ہلاک اور 12 کو گرفتار کر لیا ہے۔

صوبائی وزیرداخلہ سرفراز بگٹی نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ حساس اداروں کی معلومات پر ہفتہ کی شام سبی کے علاقے سانگان میں سکیورٹی فورسز نے کارروائی شروع کی تھی جو اتوار کی شام تک جاری رہی۔

"بلوچستان حکومت سرچ آپریشن بھی کرتی ہے اور کارروائیاں بھی ہوتی ہیں اور ان تمام عناصر کے خلاف جو دہشت گردی میں ملوث ہوں یا جرائم میں، معصوم لوگوں کے قتل میں ملوث ہوں، قومی اثاثوں کو نقصان پہنچانے کی سازش میں یا انھیں نقصان پہنچانے میں ملوث ہوں، تو ایسے ہی کچھ دہشت گردوں کی اطلاع تھی سانگان اور اس کے قریبی پہاڑی علاقوں میں۔ ہم علاقے کی تلاشی جاری رکھے ہوئے ہیں، دہشت گردوں کے بہت سے ٹھکانے ہم نے مسمار کیے ہیں بہت اسلحہ و بارود پکڑا گیا ہے۔ ان تمام علاقوں میں آپ کو پتا ہے فراری کیمپس ہیں جنہیں مسمار کیا جا رہا ہے۔"

سکیورٹی ذرائع کے مطابق مارے جانے والوں میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کا ایک اہم کمانڈر اسلم عرف اچھو اور ترجمان میرک بلوچ بھی شامل ہے۔

اس عسکریت پسند کمانڈر کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ 2013ء میں زیارت میں تاریخی قائداعظم ریذیڈنسی پر حملے میں بھی مبینہ طور پر ملوث تھا۔

تاہم صوبائی وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ وہ اس موقع پر عسکریت پسند کمانڈر کی ہلاکت کے بارے میں وثوق سے کچھ نہیں کہہ سکتے۔

"اسلم اچھو جو اس علاقے میں دہشت کا نشان ہوا کرتا تھا جس نے بہت سے معصوم لوگوں کو شہید کیا جس میں قبائلی رہنما بھی شامل ہیں۔ اس طرح سکیورٹی فورسز کو بہت نقصان پہنچانے میں ملوث رہا ہے اس کے مارے جانے کی اطلاع ہے لیکن کیونکہ ابھی غیر مصدقہ ہے جب ہمارا آپریشن مکمل ہوگا تو اس بارے میں مکمل آگاہی دی جائے گی۔"

ایک اور کالعدم تنظیم یونائیٹڈ بلوچ آرمی کے ترجمان نے الزام عائد کیا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے سانگان میں کارروائی کے دوران مقامی لوگوں کے گھروں کو مسمار کیا لیکن سکیورٹی ذرائع نے اس کی تردید کی ہے۔

بلوچستان میں 2015ء میں امن و امان کی صورتحال میں ماضی کی نسبت بہتری دیکھی گئی تھی لیکن نیا سال شروع ہوتے ہی ایک بار پھر یہاں پرتشدد واقعات میں تیزی آئی ہے جن میں متعدد بم دھماکوں کے علاوہ سکیورٹی فورسز پر جان لیوا حملے بھی شامل ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ واقعات شدت پسندوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کی جاری کارروائیوں کا ردعمل ہیں لیکن ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک یہ کارروائیاں جاری رہیں گی۔

XS
SM
MD
LG