رسائی کے لنکس

سوز میں ڈوبی ہوئی آواز: کندن لال سہگل


کندن لال سہگل

کندن لال سہگل

کانوں میں جب یہ آواز آتی ہے:

جب دل ہی ٹوٹ گیا ہم جی کے کیاکریں گے

تو ہرسننے والے کے دل میں ایک نشتر سا چبھو جاتی ہے، ایک کچوکا سا لگا جاتی ہے، ایک سوز، کسک اور تڑپ پیدا کر جاتی ہے۔ یہ آواز کندن لال سہگل کی ہے۔ اسی لئے اس آواز کو خاموش ہوئے چھ دہائیوں سے زائد کا عرصہ بیت جانے کے باوجود آج بھی جب ان کے ریکارڈ بجائے جاتے ہیں تو یہ ہر دکھے دل کی آواز بن جاتی ہے۔ کیونکہ کندن لال سہگل نے جو کچھ گایا وہ دل سے گایا۔ ان کے پاس ٹوٹا ہوا دل تھا اس لئے اس میں ایسا سوز بھر دیا جو ہر انسان کا درد بن گیا ۔

کے ایل سہگل کی پیدائش11 اپریل 1905کو جموں میں ہوئی تھی ۔ ان کے والد تحصیل دار تھے۔ لیکن شروع سے ہی سہگل کا دل پڑھنے لکھنے میں نہیں لگتا تھا اور انہوں نے گانے کی مشق شروع کر دی۔ ان کی آواز جموں سے نکل کر پنجاب پہنچی اور پنجاب سے وہ کلکتہ چلے گئے جہاں کی فلمی دنیا میں ان کے گانوں نے بہت دھوم مچائی۔ آخر میں وہ بمبئی کی فلمی دنیا سے وابستہ ہوئے اور وہاں ان کو نوشاد جیسے میوزیک ڈائریکٹر کے ساتھ گانے کا موقع ملا۔

نوشاد کی موسیقی نے ان کے غم اور درد و کرب کو دو آتشہ بنا دیا۔ عبد الرشید کاردار نے شاہ جہاں فلم میں ان سے جن گانوں کی صدا بندی کروائی وہ لوگوں کے دل پر ان مٹ نقوش چھوڑ گئے ۔

ان میں یہ گانا تو اپنی درد بھری پرسوز آواز کے لئے ایک غیر فانی مرقع بن گیا ۔

غم دئے مستقل کتنا نازک ہے دل یہ نہ جانا
ہائے ہائے یہ ظالم زمانہ

یا پھر اسٹریٹ سنگر کا یہ گانا

چاہ برباد کرے گی ہمیں معلوم نہ تھا

غالب کی کئی غزلوں کو سہگل نے اپنی آواز دی اور انہیں امر بنا دیا ۔ ان میں

نکتہ چیں ہے غم دل اس کو سنائے نہ بنے
کیا بنے بات جہاں بات بنائے نہ بنے

یا پھر

آہ کو چاہئے اک عمر اثر ہونے تک
کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہونے تک

جیسے دھیرے دھیرے دل میں اترتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔
ان کے علاوہ

دنیا میں ہوں دنیا کا طلبگار نہیں ہوں
بازار سے گزرا ہوں خریدار نہیں ہوں

18 جنوری سنہ 1947کو اس عظیم گلو کار کا انتقال ہو گیا اور ان کی وصیت کے مطابق ان کی ارتھی کے ساتھ یہی گانا بجایا جا رہا تھا ۔

جب دل ہی ٹوٹ گیا ہم جی کے کیا کریں گے
اور شاید یہی نغمہ ان کی زندگی کا صحیح عکاس بھی تھا

XS
SM
MD
LG