رسائی کے لنکس

ایدھی ذرائع کے مطابق، زیادہ تر اموات گرمی کے باعث واقع ہوئی ہیں۔ حکام کے مطابق، عرس کے موقع پر یہاں دوسرے علاقوں سے لوگ بہت بڑی تعداد میں آتے ہیں، جس کی وجہ سے وسائل کم پڑ جاتے ہیں

صوبہ سندھ کے علاقے سیہون شریف میں مشہور صوفی بزرگ حضرت لعل شہباز قلندر کے سالانہ عرس کے موقعے پر اتوار کو آٹھ افراد ہلاک ہوگئے ہیں، جب کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد اور وجوہات سے متعلق مختلف رپورٹیں موصول ہوئی ہیں۔


'وائس آف امریکہ' سے بات کرتے ہوئے سیہون کے اسسٹنٹ کمشنر احسان علی جمالی کا کہنا تھا کہ شہر کی آبادی کم ہے؛ لیکن عرس کے موقع پر یہاں دوسرے علاقوں سے لوگ بہت بڑی تعداد میں آتے ہیں، جس کی وجہ سے وسائل کم پڑ جاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مزید مشکل گرمی کی شدت کی وجہ سے پیدا ہو جاتی ہے۔


احسان علی جمالی کا مزید کہنا تھا کہ سرکاری ریکارڈ کے مطابق، اب تک آٹھ ہلاکتیں واقع ہو چکی ہیں۔ ان کے مطابق مرنے والوں میں سے چار دل کا دورہ پڑنے سے، دو افراد ڈوبنے کے باعث، ایک منشیات کی وجہ سے اور ایک گرمی سے ہلاک ہوا۔


اُنھوں نے بتایا کہ حکومت نے لوگوں کی سہولت کے لئے پینے کے پانی، برف، نہانے کے پانی، میڈیکل اور فرسٹ ایڈ کیمپوں کا انتظام کیا ہوا ہے۔


سیہون میں فلاحی ادارے ایدھی فاونڈیشن کی ایمبولنس سروس کے انچارج معراج احمد نے 'وائس آف امریکہ' سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے اب تک 17 لاشیں اٹھائی ہیں؛ اور زیادہ تر لوگوں کا تعلق پنجاب سے ہے۔ فوت ہونے والوں کی معیتیں روانہ کی جاچکی ہیں۔ ایدھی ذرائع کے مطابق، زیادہ تر اموات گرمی کے باعث واقع ہوئی ہیں۔


حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پچھلے سال کے مقابلے میں، اِس سال سیہون میں صورتحال کافی بہتر ہے۔ گذشتہ سال عرس کے موقعے پر کئی گنا زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔


مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق، مختلف سیاسی شخصیات نے صورتحال پہ تنقید کی ہے، جبکہ وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاھ نے کہا ہے کہ سیہون شریف میں عرس کے موقع پر ہلاک ہونے والوں کی اموات کی وجوہات معلوم کی جارہی ہیں اور اگر اس میں کسی کی غفلت سامنے آئی تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔


XS
SM
MD
LG