رسائی کے لنکس

پری میڈیکل کی طالبہ ماریا ہوزے گونزالز سیلفی میں وہ میکسیکو اسپتال کی ایک شدید بیمار مریضہ کےساتھ مسکراتی ہوئی نظر آرہی ہیں۔

سیلفی کا جادو یوں تو لوگوں کے سرچڑھ کر بول رہا ہے لیکن اپنی کھینچی ہوئی تصویروں کے جنون میں مبتلا بعض سوشل میڈیا کےصارفین خطرناک مقامات، بےگھر افراد اور جانوروں کے ساتھ بھی سلفی لینے کا شوق پورا کرتے نظر آتے ہیں ،حتیٰ کہ جنازوں تک میں سیلفی اتارنے سے باز نہیں آتے ہیں، یہ سب حقیقی مثالیں ہیں، لیکن میکسیکو کی میڈیکل کی ایک طالبہ کا ایک مرتی ہوئی خاتون کے ساتھ سیلفی اتارنا حد سے تجاوز کرنے کے مترادف ہے۔

ٹائمز کی لاطینی اشاعت کے مطابق یہ معاملہ شمال مشرقی میکسیکو کے ایک شہر ریناسا میں پیش آیا ہے جہاں میڈیکل کی ایک طالبہ نے اپنی ڈیوٹی کے دوران ایک ایسی مریضہ کےساتھ سیلفی لےڈالی، جو زندگی کی آخری سانسیں گن رہی تھی۔

ڈیل ویل ڈی میکسیکو یونیورسٹی کی پری میڈیکل کی طالبہ ماریا ہوزے گونزالس نے اپنی سیلفی سے انٹرنیٹ کی دنیا میں غم وغصہ پیدا کردیا ہے جس میں وہ ڈیل ویل ڈی میکسیکو اسپتال کی ایک شدید بیمارمریضہ کےساتھ مسکراتی ہوئی نظر آرہی ہیں۔

ماریا ہوزے گونزالس کی مرتی ہوئی خاتون کے ساتھ سیلفی انٹرنیٹ پر وائرل ہوگئی ہے، جہاں سوشل میڈیا کے صارفین کی طرف سے پیشہ وارانہ مہارت کی کمی اورمریضہ سے ہمدردی کا سلوک ناکرنے پر مستقبل کی ڈاکٹر مس گونزالس کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

تصویر میں مس گونزالس ڈاکٹر کے یونیفارم میں نظر آرہی ہیں،انھوں نے گلے میں اسٹیتھسکوپ پہن رکھا اور کیمرے کے سامنے مسکراتی ہوئی وہ انگلیوں سے امن کا نشان دیکھا رہی ہے،جب کہ ان کے پس منظر میں شدید بیمار مریضہ بستر پر بے سدھ لیٹی ہے۔

یہ تصویر واٹس ایپ کے ذریعے لی گئی ہے جسے درج ذیل عنوان کے ساتھ پوسٹ کیا گیا ہے 'میں ڈیوٹی پر تھی اور اس خاتون کی اذیت کے لمحات شروع ہوگئے ،جس پر ایک سیلفی '۔

آن لائن تنقید کے جواب میں یونیورسٹی نے کہا ہے کہ فوٹو گرافر نے جو تاثر دیا ہے، وہ یونیورسٹی کے اقدار کے منافی ہےجبکہ مریضہ کے ساتھ سیلفی اتارنے پر مس گونزالس کو میڈیکل کورس سے خارج کرنے کا عندیہ بھی دیا گیا ہے۔

سوشل میڈیا پر سیلفی کےحوالے سے صارفین کی برہمی کا جواب دیتے ہوئے میڈیکل کی طالبہ نے اپنے فیس بک کے صفحے پر دعویٰ کیا ہے کہ یہ تصویر مریضہ کی طبیعت بگڑنے سے پہلے کی تھی اور ان کا اصرار ہے کہ تصویر لینے کے لیے انھوں نے مریضہ سے اجازت لی تھی۔

دوسری طرف ناقدین کا کہنا ہے کہ تصویر میں نظر آنے والی مریضہ اس حالت میں نہیں تھی کہ وہ تصویر کی اجازت دے سکے۔

مس گونزالس نے اپنی صفائی پیش کرتے ہوئے لکھا کہ تصویر کو غلط سمجھا گیا ہے،مریضہ نے مجھ سے اپنی زندگی کے بارے میں کچھ باتیں شیئر کی تھیں اور یہ میرا انٹرن شپ کا پہلا دن تھا میں اس روز ایک یادگار تصویر لینا چاہتی تھی۔

طالبہ کا کہنا ہےکہ مریضہ کا انتقال ان کی شفٹ میں نہیں ہوا تھا اور یہ بات سراسر غلط ہے ۔

مس گونزالس نے کہا کہ ان کا مقصد کسی کا مذاق اڑانا یا کسی کی دل آزاری کرنا نہیں تھا۔

یونیورسٹی ڈیل ویل ڈی میکسیکو بورڈ نے معاملے کی مکمل تحقیقات کرانے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ اس قسم کے عمل کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا اور طالبہ کو بورڈ کے انضباطی اجلاس میں طلب کر کے سوال کیا جائے گا جس کے بعد اراکان اس کی قسمت کا فیصلہ کریں گے۔

XS
SM
MD
LG