رسائی کے لنکس

سیمی فائنل میں ہار کی وجہ؟ ملین ڈالرسوال!


سیمی فائنل میں ہار کی وجہ؟ ملین ڈالرسوال!

سیمی فائنل میں ہار کی وجہ؟ ملین ڈالرسوال!

کرکٹ کی خوبصورتی کے نقطہ نظر سے اس میچ کو ’کلاسک‘کہنا مشکل ہوگا۔ دونوں ٹیموں نے اپنی صلاحیت سے کہیں کمتر درجے کاکھیل پیش کیا فرق یہ تھا کہ بھارت کی ٹیم نے اچھا نہیں کھیلا مگر مینیج اچھا کیا، پاکستانی ٹیم نے نہ صر ف اچھا نہیں کھیلا بلکہ مینیج بھی اچھا نہیں کرسکی۔ سٹریٹجی اورگیم پلان کی خامیوں نے بڑے میچ میں غلطی کا موقع نہیں دیا

موہالی میں ورلڈ کپ دوہزار گیارہ کے سیمی فائنل میں پاکستانی ٹیم کی روائتی حریف بھارت سے 29 رنز سے شکست پرپاکستانی ٹیم کے مداحوں میں مایوسی کے جذبات فطری ہیں لیکن ٹیم کے لیے اچھی خبر یہ ہے کہ لوگوں میں اشتعال نہیں ہے غصہ نہیں ہے البتہ، چند کھلاڑیوں خاص طور پر سینئر کھلاڑیوں کو سوشل میڈیا کی ویب سائٹس پرنظریں ڈالنی چاہئیں۔

یہ سوال کہ پاکستانی ٹیم کیوں ہاری؟ یہ ملیئن ڈالر کوئسچن ہے۔ تھیوریٹکلی اس کا جواب دینا مشکل ہو گا۔ زیادہ تر وقت پاکستانی ٹیم کی گرفت میچ پر مضبوط رہی اور اچانک ٹیم کے کھلاڑیوں کو جیسے احساس ہوا کہ میچ تو ہاتھ سے نکل گیا ہے۔۔بالکل مٹھی سے ریت کی طرح۔۔۔ یہ کیوں ہوا، اس کا جواب مشکل ہے۔ البتہ ظاہری وجوہات ہر ایک پر واضح ہیں۔ ناقص فیلڈنگ، ناقص منصوبہ بندی جیسے بیٹنگ پاورپلےکی نہ سمجھ آنے والی ٹائمنگ۔ شاہد آفریدی جب تہیہ کر چکے تھے کہ انہوں نے ہر بال کو اٹھا کر مارنا ہے تو اس وقت پاور پلے کیوں نہ لیا گیا؟ اگر لے لیا جاتا تو امکان تھا کہ کپتان لوز شاٹ کھیلنے کے باوجود کیچ نہ ہوتے کیوں کہ فیلڈر دائرے میں ہوتے۔

بعض لوگ دلیلیں دے رہے ہیں کہ ٹیم جن حالات میں سیمی فائنل تک پہنچی ہے وہ بھی بڑی بات ہے، بعض کے خیال میں ٹیم ویسے ہی فیورٹ نہیں تھی، بعض کا کہنا ہے کہ پریشر گیم تھی، کھلاڑی دباو میں آگئے۔ بعض کہتے ہیں ٹیم کولیپس کر گئی

ان دلیلوں کا جواب یہ ہے کہ پاکستان کی ٹیم اس لیے نہیں ہاری کہ جیتنے کے لیے فیورٹ نہیں تھی۔ اور بھارت کی ٹیم اس لیے نہیں جیتی کہ وہ فیورٹ تھی۔ اگر باہر کے اندازوں اور تجزیوں پرجیت ہار کا تعین ہو تو آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ کو فائنل کھیلنا چاہیے تھا۔ جہاں تک تعلق ہے کھلاڑیوں کے پریشر میں آنے کا تو پریشر میں زیادہ غلطیاں تو جونیئرز یا کم تجربہ کار کھلاڑیوں سے ہونی چاہیئے تھیں، عمراکمل سے، اسد شفیق سے، حفیظ سے یا سعید اجمل سے۔۔۔ اس میچ میں تو سینئرز ناکام ہوئے۔ یونس خان، عمر گل، شاہد خان، اور مصباح الحق۔۔۔۔۔۔۔۔ فیلڈنگ ناقص تھی؟ ٹھیک ہے، اچھی کب تھی؟ ناقص فیلڈنگ کا ازالہ تو باولنگ نے کر دیا تھا، بلے بازوں کو کیا ہوا؟ کہا گیا بھارت کی ٹیم بھی تو کولیپس کر گئی تھی، پاکستان کی ٹیم بھی بیٹھ گئی۔ ’کولیپس‘، جی ہاں، ٹیم ’کولیپس ‘کرتی تو بھی بات سمجھ میں آتی پاکستان ٹیم نے تو ’کولیپس‘بھی نہیں کیا۔ سات بلے باز کریز پر سیٹ ہونے کے بعد آوٹ ہوئے کوئی دو بھی اپنے کنٹری بیوشن کو بڑی اننگ میں تبدیل کرتے تو نتیجہ مختلف ہوتا خاص طور پر بڑے اور سینئر کھلاڑی۔ پانچ چھ سال کے بچے بھی سوال اٹھا رہے کہ کہ مصباح کا بلا اس وقت کیوں چلا جب جیت کے امکانات ختم ہو چکے تھے۔ یہ ملیئن ڈالر کوئسچن ہے۔۔۔ (ملین ڈالر کے استعمال کو محاورا ہی خیال کیا جائے)

بات اگر کرکٹ کے حسن کے نقطہ نظر سے کریں تو اس میچ کو ’کلاسک‘کہنا مشکل ہوگا۔ دونوں ٹیموں نے اپنی صلاحیت سے کہیں برا کھیل پیش کیا فرق یہ تھا کہ بھارت کی ٹیم نے اچھا نہیں کھیلا مگر’ مینیج‘ اچھا کیا، پاکستانی ٹیم نے نہ صر ف ااچھا نہیں کھیلا بلکہ مینیج بھی اچھا نہیں کرسکی۔ سٹریٹجی اورگیم پلان کی خامیوں نے بڑے میچ میں غلطی کا موقع نہیں دیا۔

کرکٹ ٹیم اور کرکٹ کے مستقبل کے حوالے سے لمبی بحث کی ضرورت ہے۔ دو جملوں میں بات اتنی ہو سکتی ہے کہ اگر سینئرز پرفارم نہیں کر رہے اور ان کی فٹنس اور عمریں 50 اوور کے کھیل میں بھی ان کے چہروں پر تھکاوٹ کو واضح کر دیتی ہیں تو شاید ان کو خداحافظ کہنے کا وقت آ گیا ہے۔ یونس خان، مصباح الحق اور عبدالرزاق کے بارے میں خاص طور پراسی زاویے سے سوچنا ہوگا ۔ اور بقول کسے کامران اکمل اگر ڈان بریڈ مین جیسا بھی بلے باز ہو تو بھی وکٹوں کی پیچھے اس کی غلطیاں قابل قبول نہیں ہو سکتیں۔ یہ تو سب مانیں کہ کامران اکمل ڈان بریڈمین تو قطعا نہیں ہے۔ سوچنا ہو گا کہ ان کھلاڑیوں کی کتنی کرکٹ باقی ہے، یقینا پا نچ پانچ سال تو ان کے باقی نہیں ہیں اور بڑے اذہان کم ازکم پانچ سال کی پلاننگ کرتےتو ہیں۔ویسے بھی دنیائے کرکٹ کا سب سے بڑا مقابلہ جیتنا ہی کسی ٹیم کی منزل ہو سکتی ہے تو سوچنا پڑے گا کہ ایسے کھلاڑی جو فارم میں نہیں ہیں اور آئندہ ورلڈ کپ میں کہیں بیٹھے کمنٹری کر رہے ہوں گے تو کیوں نہ آج ان کی جگہ ایسے کھلاڑیوں کو ٹیم میں شامل کیا جا ئے جن میں بھرپورصلاحیت ہے۔ چارپانچ سال بعد وہ قابل بھروسہ کھلاڑی کی شناخت حاصل کر چکے ہوں گے۔ اور ویسے بھی اگر سینئزز کے ساتھ بھی ٹیم عالمی رینکنگ میں ساتویں اور چھٹے نمبرپر ہو تو وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ ٹیم کی رینکنگ جونیرز کے ساتھ بھی اس سے نیچے نہیں جا سکتی۔

ایک اور بات، پاکستانی ٹیم کے ساتھ ایک مینیجر اور دو کوچ ہیں۔ تینوں محنتی ہوں گے، ان کی صلاحیتیں بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ مگر تینوں کی شہرت کم از کم بلے بازی نہیں رہی۔ تینوں کوئی اچھے فیلڈر کے طور پر بھی نہیں پہچانے جاتے جبکہ ٹیم کو مسائل اس کی بیٹنگ اور فیلڈنگ میں ہی درپیش ہیں۔ ان حالات میں بیٹنگ اور فیلڈنگ کوچ بھی خدمات حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ جو نوجوان کھلاڑی ناکام ہوئے ہیں مگر اچھا مستقبل ہو سکتے ہیں، ان کی خامیوں کو دور کرنا چاہیے۔ اس سلسلے میں کرکٹ اکیڈمی بھی موجودہے۔

وقت آ گیا ہے کہ بڑے فیصلے کیے جائیں۔۔۔۔۔۔ اور بورڈ چیف کی بجائے کرکٹ کے پیٹرن چیف ( صدرمملکت) ماہرین کے صلاح مشورے سے،پسند نا پسند سے ہٹ کر فیصلے کریں تو زیادہ بہتر ہوگا۔ اس طرح صرف کھلاڑیوں نہیں بلکہ بورڈ چیف سمیت عہدیداروں کی کارکردگی بھی زیرِ بحث آئے گی اور ان عہدوں پر شخصیات کے انتخاب میں بھی انصاف کا کم از کم ایک امکان تو تلاش کیا جاسکتا ہے۔

XS
SM
MD
LG